International

ایرانی جزیرہ خارگ کے قریب تیل کا مشتبہ اخراج، سیٹلائٹ کی تصاویر میں انکشاف

ایرانی جزیرہ خارگ کے قریب تیل کا مشتبہ اخراج، سیٹلائٹ کی تصاویر میں انکشاف

ایران کے تیل کے بنیادی مرکز جزیرہ خارگ کے قریب سطح سمندر پر درجنوں مربع کلومیٹر کے علاقے میں تیل کا ایک مشتبہ پھیلاؤ اس ہفتے سیٹلائٹ کی تصویر میں دیکھا گیا ہے۔ کوپرنیکس کے سینٹینیل-ون، سینٹینیل-ٹو اور سینٹینیل-تھری سیٹلائٹس کی چھے تا آٹھ مئی کی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمئی اور سفید چمکدار رنگوں میں نظر آنے والا ممکنہ پھیلاؤ آٹھ کلومیٹر (پانچ میل) طویل جزیرے کے مغرب میں سطح آب پر پھیلا ہے۔ کانفلِکٹ اینڈ اینوائرنمنٹ آبزرویٹری کے تحقیق دان لیون مورلینڈ نے کہا، "یہ چمکیلا پھیلاؤ بصری طور پر تیل سے مطابقت رکھتا ہے۔" ان کے اندازے کے مطابق یہ تقریباً 45 مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط ہے۔ موسمیات و وسائل پر توجہ مرکوز کرنے والے ادارے کنسلٹنسی ڈیٹا ڈیسک کے شریک بانی لوئس گوڈارڈ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ تصاویر میں ممکنہ طور پر تیل کا پھیلاؤ دکھایا گیا ہے جو ان کے مطابق 70 دن پہلے ایران کے خلاف امریکہ-اسرائیل جنگ شروع ہونے کے بعد سے ممکنہ طور پر سب سے بڑا پھیلاؤ ہے۔ جنیوا میں اقوامِ متحدہ میں امریکی فوج اور ایران کے مشن نے ان تصاویر پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔ مورلینڈ نے مزید کہا کہ ممکنہ پھیلاؤ کی وجہ اور اس کا اصل مقام فی الحال نامعلوم ہے اور مشاہدہ کیا کہ آٹھ مئی کی تصاویر سے مزید کسی جاری پھیلاؤ کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ جزیرہ خارگ ایران کی تیل کی 90 فیصد برآمدات کا مرکز ہے جس کا زیادہ تر حصہ چین کے لیے مخصوص ہے۔ امریکی افواج نے کہا تھا کہ یہاں انہوں نے جنگ کے آغاز میں فوجی اہداف تباہ کر دیے تھے۔ ایران جنگ سے خلیج میں سینکڑوں بحری جہاز بھی پھنس گئے ہیں جو خام تیل کی رسد میں سب سے بڑی رکاوٹ ہونے کے ساتھ ساتھ تیل کی مصنوعات اور مائع قدرتی گیس کی عالمی رسد کو متأثر کرنے کا بھی سبب ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments