International

ایرانی عدلیہ نے انٹرنیٹ کی بحالی سے متعلق صدارتی فیصلے کو معطل کر دیا

ایرانی عدلیہ نے انٹرنیٹ کی بحالی سے متعلق صدارتی فیصلے کو معطل کر دیا

ایران کی عدلیہ نے اس صدارتی ادارے کی کارروائی معطل کر دی ہے ،جس نے ملک میں انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ اقدام ان اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کو ظاہر کرتا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے بعد نافذ پابندیوں اور کنٹرول شدہ انٹرنیٹ پالیسیوں کا انتظام کر رہے ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق، عدالتی فیصلے میں اس خصوصی ادارے کو نشانہ بنایا گیا جسے ''سائبر اسپیس کے نظم و نسق اور انتظام'' کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہ ادارہ صدر مسعود پزشکیان نے 12 مئی کو موجودہ بحران کے دوران مواصلات اور انٹرنیٹ کے معاملات سنبھالنے کے لیے قائم کیا تھا۔ اس ادارے نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ ملک میں انٹرنیٹ کو مرحلہ وار بحال کیا جائے گا، جس کی تصدیق حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے بھی کی تھی، جبکہ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ صدر کی جانب سے براہِ راست ہدایت دی گئی تھی کہ سروس بحال کی جائے۔ ایک اہم زمینی پیش رفت کے طور پر انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والی تنظیم ''نیٹ بلاکس'' نے بتایا ہے کہ اس کے اعداد و شمار کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت اس عدالتی فیصلے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئی ہے، جس میں اس صدارتی ادارے کی سرگرمیاں معطل کی گئی تھیں، جو جنگ اور سکیورٹی کشیدگی کے بعد کئی مہینوں سے جاری سخت پابندیوں کے تحت انٹرنیٹ کی مرحلہ وار بحالی کا عمل چلا رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق نیٹ ورک سگنلز کی نگرانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ''ایران میں انٹرنیٹ 88ویں دن میں جزوی طور پر بحال ہو رہا ہے، جو 2093 گھنٹوں کی تقریباً مکمل تنہائی کے بعد ممکن ہوا'' اور اسے جدید دور کی سب سے طویل قومی انٹرنیٹ بندش قرار دیا گیا ہے۔ گزشتہ کئی مہینوں سے ایران میں انٹرنیٹ تقریباً مکمل طور پر منقطع تھا، جسے حکام نے جنگ اور سکیورٹی صورتحال کے باعث نافذ کیا تھا، جبکہ اس دوران نیٹ ورکس کے مبینہ استعمال کو ''سائبر جنگ ''اور داخلی اشتعال انگیزی سے جوڑا گیا۔ عدالتی مداخلت کو ریاستی اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر اس وقت جب اقتصادی دباؤ اور مواصلاتی پابندیوں پر عوامی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب صدر پزشکیان کی حکومت عوامی رائے کے لیے نسبتاً زیادہ کھلے پن کا تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے، ساتھ ہی امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات میں جنگ بندی اور بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments