جہاں ایک طرف امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کی پیش رفت پر نظریں لگی ہوئی ہیں، بالخصوص امریکی صدر کی جانب سے دوبارہ جنگ کے آغاز کو مؤخر کیے جانے کے بعد، وہیں ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اس ترمیم شدہ معاہدے کی شقیں ظاہر کر دی ہیں جو پاکستان نے گزشتہ روز واشنگٹن کے حوالے کیا تھا۔ ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق اس مجوزہ معاہدے میں پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی بحالی اور ملک پر عائد امریکی بحری محاصرے کا خاتمہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، ایران کے قریبی علاقوں سے امریکی افواج کا انخلا اور جنگی نقصانات کے معاوضے کی ادائیگی بھی شامل ہے۔ تاہم ان شرائط میں اور ایران کی سابقہ تجویز میں کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آتی، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے مسترد کرتے ہوئے "کچرا" قرار دیا تھا۔ اس سے قبل ٹرمپ نے آج منگل کے روز ایران پر ہونے والے ایک طے شدہ حملے کو مؤخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں کی درخواست کے احترام میں کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے کا حقیقی موقع موجود ہے جو خطے کے استحکام کو یقینی بنائے اور ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روک سکے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ تہران کے ساتھ اس وقت "سنجیدہ مذاکرات" جاری ہیں۔ بعد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے روکنے کا حل بغیر بم باری کے نکل آتا ہے تو وہ بہت خوش ہوں گے۔ دوسری جانب ایک پاکستانی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد نے واشنگٹن کو اس ایرانی تجویز سے آگاہ کر دیا ہے۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ دونوں فریق اپنی شرائط میں مسلسل تبدیلیاں کر رہے ہیں اور اب وقت زیادہ نہیں ہے۔ مذاکرات میں متضاد اشارے بھی مل رہے ہیں۔ ایک سینئر ایرانی عہدے دار نے بتایا کہ واشنگٹن اپنے کچھ مطالبات میں نرمی لاتے ہوئے غیر ملکی بینکوں میں منجمد ایرانی اثاثوں کا چوتھائی حصہ بحال کرنے پر راضی ہو گیا ہے، جبکہ تہران تمام اثاثوں کی بحالی چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ واشنگٹن نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی نگرانی میں ایران کو کچھ پُر امن ایٹمی سرگرمیاں جاری رکھنے دینے پر لچک دکھائی ہے۔ تاہم ایک امریکی عہدے دار نے ان رپورٹوں کی تردید کی ہے کہ واشنگٹن نے ایرانی تیل پر عائد پابندیاں ہٹانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ اپریل کے اوائل میں جنگ بندی سے قبل امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل نے لبنان میں بھی ہزاروں افراد کو ہلاک اور لاکھوں کو بے گھر کیا ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ بندی اب تک بڑی حد تک برقرار ہے، اگرچہ حال ہی میں عراق سے سعودی عرب اور کویت سمیت خلیجی ممالک کی طرف ڈرون داغے گئے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کے خلاف اس جنگ کا مقصد خطے میں اس کے اتحادی گروپوں کی حمایت کو محدود کرنا، اس کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنا اور اس کی میزائل صلاحیتوں کو تباہ کرنا بتایا ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی