ایران نے برطانیہ کی جانب سے عائد کیے گئے سیکیورٹی الزامات پر احتجاج کرتے ہوئے برطانوی سفیر کو طلب کر لیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی سفیر کو احتجاجی مراسلہ بھی دیا ہے، جس میں برطانیہ کی جانب سے ایران پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ احتجاجی مراسلے میں ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ برطانیہ ان گروہوں کی میزبانی بند کر دے جنہیں ایران دہشت گرد نیٹ ورکس قرار دیتا ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق برطانیہ نے 2024ء میں برطانوی نژاد ایرانی صحافی پر حملے کے الزام میں ایران کو موردِ الزام ٹھہرایا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اسی معاملے پر برطانیہ نے منگل کے روز ایرانی ناظم الامور کو بھی طلب کیا تھا۔ برطانوی حکومت کے مطابق 2024ء میں برطانوی نژاد ایرانی صحافی پر حملے میں ملوث رومانیہ کے 2 شہریوں کو گزشتہ ہفتے سزا سنائی گئی تھی، جبکہ استغاثہ نے حملے میں ملوث افراد کو ایرانی حکومت کی پراکسی قرار دیا تھا۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع