International

ایران میں سخت گیر عناصر معاہدے میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں : امریکی حکام

ایران میں سخت گیر عناصر معاہدے میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں : امریکی حکام

امریکی ایرانی مذاکرات کسی بھی قابل ذکر پیش رفت کے بغیر اپنی جگہ پر رکے ہوئے ہیں۔ مجوزہ معاہدے کے حوالے سے ایرانی داخلی اختلافات کی نشان دہی کرتے ہوئے امریکی حکام نے ہفتے کے روز نیویارک ٹائمز اخبار کو بتایا کہ ایران میں سخت گیر عناصر معاہدے تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ اخبار نے مزید کہا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان مذاکرات کے خلاف پروپیگنڈے کی وجہ سے سرکاری میڈیا کے خلاف سیاسی جنگ لڑ رہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے نشان دہی کی کہ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی اور قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی سکریٹری علی باقری کنی جیسے سخت گیر عناصر معاہدے میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ اخبار نے واضح کیا کہ باقری کنی قومی سلامتی کونسل کے واحد رکن تھے جنہوں نے مجتبیٰ خامنہ ای کے نام اس خط پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا جس میں مذاکرات کی حمایت کی گئی تھی۔ مزید بتایا گیا ہے کہ باقری کنی نے پارلیمنٹ کے اسپیکر اور ایرانی مذاکرات کاروں کے سربراہ باقر قالیباف پر امریکیوں کے ساتھ حد سے زیادہ نرمی برتنے کا الزام عائد کیا اور مذاکرات کو ناکام بنانے کے لیے یہ خط میڈیا میں نشر کیا۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اجلاس جمعہ کے روز کسی بھی فیصلے کے اعلان کے بغیر ختم ہو گیا۔، اس سے قبل ٹرمپ نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ مفاہمت تک پہنچنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے کے لیے پُر عزم ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہل کار نے العربیہ انگلش کو واضح کیا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور ڈونلڈ ٹرمپ ایسے کسی معاہدے کو قبول نہیں کریں گے جو امریکہ کے مفاد میں نہ ہو۔ ساتھ اس بات کی بھی تصدیق کی کہ کوئی بھی ایسا ایرانی معاہدہ قبول نہیں کیا جائے گا جو ٹرمپ کی سرخ لکیروں پر پورا نہ اترتا ہو۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں تصدیق کی تھی کہ وسط مدتی انتخابات ایران کی جنگ سے متعلق کسی بھی فیصلے کو مؤخر کرنے کی وجہ نہیں بنیں گے۔ انھوں نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔

Source: social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments