آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ آسٹریلیا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے مقصد کی حمایت کرتا ہے، لیکن اب یہ واضح نہیں کہ مزید کیا اقدامات درکار ہیں یا اس عمل کا حتمی نتیجہ کیا ہونا چاہیے۔ ان کے یہ بیانات نیشنل پریس کلب میں خطاب کے دوران آئے، یہ وہی وقت تھا کے جب امریکی صدر ٹرمپ قوم سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم سے ٹرمپ کی جانب سے تنازع کے خاتمے کے لیے دیے گئے وقت کے تعین کے بارے میں بھی سوال کیا گیا، جس پر انھوں نے کہا کہ ’آسٹریلیا سے اس کے آغاز سے پہلے کوئی مشاورت نہیں کی گئی تھی۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میں نے بہت واضح طور پر کہا ہے کہ ہم تناؤ میں کمی دیکھنا چاہتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ اس بات پر زیادہ وضاحت ہو کہ یہ معاملہ کیسے ختم ہوگا۔‘ یہ بیانات البانیز کے تقریباً 24 گھنٹے قبل کی گئی مختصر تقریر کے بعد سامنے آئے ہیں کہ جس میں انھوں نے آسٹریلوی عوام کو خبردار کیا تھا کہ ’آنے والے مہینے آسان نہیں ہوں گے۔‘ انھوں نے کہا تھا کہ ’آسٹریلیا اس جنگ کا فعال فریق نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود تمام آسٹریلوی اس کے باعث زیادہ قیمتیں ادا کر رہے ہیں۔‘
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع