امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق معاون اور امریکی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سابق سربراہ جو کینٹ نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسرائیل کے لیے امریکی فوجی اور انٹیلی جنس تعاون ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کیے گئے بیان میں جو کینٹ نے کہا ہے کہ اس معاہدے کے برقرار رہنے کے امکانات کو مضبوط بنانے کے لیے امریکا کو اسرائیل کو فراہم کی جانے والی تمام فوجی اور انٹیلی جنس مدد بند کر دینی چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی اور خدشہ ظاہر کیا کہ اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں بھی ایسی کوششیں دہرائی جا سکتی ہیں۔ جو کینٹ نے مزید کہا کہ امریکا کو خاموشی سے خلیجی ممالک میں موجود اپنے ان فوجی اڈوں سے بھی اہلکار واپس بلا لینے چاہئیں جو ایران کی رسائی میں ہیں، اس اقدام سے ایران کو امریکی افواج کو نشانہ بنا کر امریکا کو دوبارہ تنازع میں گھسیٹنے کا موقع نہیں ملے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کو ایسے تمام عوامل ختم کر دینے چاہئیں جو اسے اسرائیل یا ایران کی شرائط پر دوبارہ جنگ میں دھکیل سکتے ہیں اور اپنی پالیسی کو ایسے انداز میں ترتیب دینا چاہیے جس سے تمام قابلِ کنٹرول حالات امریکا کے حق میں رہیں۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع