International

ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے موخر کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی مذاکرات ہو رہے ہیں: سابق امریکی ایلچی

ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے موخر کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی مذاکرات ہو رہے ہیں: سابق امریکی ایلچی

بائیڈن انتظامیہ میں ایران کے لیے امریکہ کے سابق خصوصی ایلچی رابرٹ میلی کہتے ہیں کہ ایران کی توانائی کی تنصیبات پر حملے 10 روز کے لیے موخر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ زمینی مداخلت کا حکم نہیں دیں گے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے رابرٹ میلی کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ مذاکرات میں پیش رفت کو حملے روکنے کا جواز قرار دے رہیں کہ لیکن ’اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بات چیت ہو بھی رہی ہے یا نہیں۔‘ پینٹاگون نے اس ہفتے خطے میں مزید زمینی دستے تعینات کیے ہیں، اسی وقت جب امریکہ نے کہا تھا کہ اس نے ایران کو 15 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا ہے۔ میلی کہتے ہیں کہ تنازع کا سب سے زیادہ ممکنہ نتیجہ امریکہ اور ایران کے مابین کوئی ’عظیم معاہدہ‘ نہیں ہے۔ یہ اُسی وقت ختم ہو جائے گا جب ٹرمپ یہ فیصلہ کریں گے کہ اُن کے پاس سیاسی اور اقتصادی طور پر یہ جنگ ختم کرنے کا جواز ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments