بائیڈن انتظامیہ میں ایران کے لیے امریکہ کے سابق خصوصی ایلچی رابرٹ میلی کہتے ہیں کہ ایران کی توانائی کی تنصیبات پر حملے 10 روز کے لیے موخر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ زمینی مداخلت کا حکم نہیں دیں گے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے رابرٹ میلی کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ مذاکرات میں پیش رفت کو حملے روکنے کا جواز قرار دے رہیں کہ لیکن ’اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بات چیت ہو بھی رہی ہے یا نہیں۔‘ پینٹاگون نے اس ہفتے خطے میں مزید زمینی دستے تعینات کیے ہیں، اسی وقت جب امریکہ نے کہا تھا کہ اس نے ایران کو 15 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا ہے۔ میلی کہتے ہیں کہ تنازع کا سب سے زیادہ ممکنہ نتیجہ امریکہ اور ایران کے مابین کوئی ’عظیم معاہدہ‘ نہیں ہے۔ یہ اُسی وقت ختم ہو جائے گا جب ٹرمپ یہ فیصلہ کریں گے کہ اُن کے پاس سیاسی اور اقتصادی طور پر یہ جنگ ختم کرنے کا جواز ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع