International

ایران کا وفد18 گھنٹے کی شدید مذاکراتی نشستوں کے بعد تہران واپس روانہ ہو گیا

ایران کا وفد18 گھنٹے کی شدید مذاکراتی نشستوں کے بعد تہران واپس روانہ ہو گیا

ایرانی وفد امریکہ کے ساتھ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی مذاکرات میں شریک تھا اور جو پاکستان و قطر کی ثالثی سے منعقد ہوئے، آج پیر کے روز تہران واپس روانہ ہو گیا،تقریباً 18 گھنٹے کی شدید مشاورت اور مذاکرات کے بعد، جیسا کہ ایرانی سرکاری خبر ایجنسی ''ارنا'' نے رپورٹ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی وفد، جس کی قیادت مجلس شوریٰ کے سربراہ محمد باقر قالیباف کر رہے تھے اور جس میں وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل تھے، پیر کی صبح مذاکراتی مقام سے روانہ ہوا۔ یہ طویل نشستیں تقریباً 18 گھنٹے جاری رہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق تکنیکی سطح کی مشاورتیں اسی ہفتے سوئٹزرلینڈ میں جاری رہیں گی۔ ان مذاکرات میں معاہدے کے نفاذ کے طریقۂ کار اور خصوصی تکنیکی ٹیموں کی تشکیل پر غور کیا جائے گا۔ اسی دوران سوئس وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ بورگن شٹوک میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذکراتی یادداشت (مذکورہ فریم ورک) کے نفاذ سے متعلق شدید مذاکرات گزشتہ رات بھر جاری رہے، جن میں دونوں فریقین اور ثالث شریک تھے۔ وزارت کے مطابق اس وقت ایسے حالات موجود ہیں ،جو امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح پر فوری مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لیے سازگار ہیں۔سوئس وزارتِ خارجہ نے ایک بار پھر اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنی روایتی اچھے دفتر کی ثالثی کی پالیسی کے تحت اس عمل کی حمایت اور سہولت کاری جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ ثالثوں نے سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ تکنیکی مذاکرات پورے ہفتے بورگن شٹوک کے پہاڑی ریزورٹ میں جاری رہیں گے۔ رپورٹ کے مطابق ابتدا میں یہ مذاکرات کشیدگی کا شکار رہے، خصوصاً اس وقت جب تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک بار پھر سخت مؤقف سامنے آیا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکیوں نے ماحول کو مزید تناؤ کا شکار بنا دیا۔ تاہم قطر اور پاکستان کی ثالثی سے جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران نے ایک ''روڈ میپ'' پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت 60 دن کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔ قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق تکنیکی سطح کی بات چیت پورے ہفتے اسی سوئس ریزورٹ میں جاری رہے گی۔ مزید یہ کہ فریقین نے لبنان میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک طریقۂ کار پر بھی اتفاق کیا ہے اور آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کے لیے ایک رابطہ لائن بھی قائم کر دی گئی ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments