International

ایران کا امن معاہدہ، ٹرمپ اور نتین یاہو کی ذلت آمیز شکست

ایران کا امن معاہدہ، ٹرمپ اور نتین یاہو کی ذلت آمیز شکست

امریکہ اور ایران نے ڈونلڈ ٹرمپ کی تباہ کن، غیر قانونی جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے پر اتفاق کیا ہے ۔ اس معاہدے کا مستقبل کیا ہوگا، اس سے قطع نظر ، فی الحال معاہدے کے بارے میں جو محدود تفصیلات لیک کی گئی ہیں، وہ بتاتی ہیں کہ یہ معاہدہ امریکی صدر ٹرمپ کےساتھ ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے لیے ایک اور ذلت آمیز شکست کے متراف ہے۔ ایران میں امریکہ اسرائیل جنگ کا ابتدائی ہدف ایران کی حکومت کا تختہ الٹنا تھا۔ ایسا نہیں ہوا بلکہ ایک خامنہ ای کی جگہ دوسرے خامنہ ای نے لی۔امریکی انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ جنگ صرف چند ہفتے ہی چلے گی لیکن تین مہینےبھی ہوئے جنگ کی فضا قائم رہی۔ اس تنازعہ سے صرف ایران کا اثرو رسوخ مزید گہرا ہوا۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کردیا، تیل کی ترسیل بند کردی، جس سے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ یوں ایران نے عالمی معیشت کے گلے پر ہاتھ رکھ دیا۔ اس سارے پس منظر میں ٹرمپ کیلئے ہاتھ کھڑے کرنے کے بغیر کوئی چارہ کار باقی نہیں رہا۔ شومئی قسمت، انکا سرنڈر انکے 80 ویں یوم پیدائش پر ہوا۔ یہ معاہدہ، جس پر جمعہ کو دستخط ہونے کی امید ہے، تکنیکی طور پر ایک اور عارضی جنگ بندی ہے۔ 60 دن کےوقفے میں امریکہ اور ایران، ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے لیے بات چیت کریں گے۔ بھلے ہی یہ عارضی جنگ بندی ہو، لیکن امریکہ اور ایران دونوں ہی اس معاہدے کو جنگ کے مستقل خاتمے کا راستہ قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا اور اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش جاری رکھی۔ اسرائیل نے اتوار کو بیروت میں شہریوں پر حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کر کے معاہدے کو ٹارپیڈو کرنے کی کوشش کی بالکل ویسے ہی جب ایک ہفتہ قبل اسرائیل نے ایسی ہی کوشش کی تھے۔ ٹرمپ نے اتوار کو صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں نیتن یاہو پر ایک بار پھر تنقید کی۔ تاہم اس بار امریکہ اور ایران بظاہر ایک معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ فو الھال جو اشارے ہیں انکے مطابق اس امن معاہدے کا اطلاق لبنان پر بھی ہوگا جہاں اسرائیل بے تحاشا گولہ باری سے قصبوں اور دیہاتوں کو زمین بوس کررہا ہے۔ ایران کا سرکاری میڈیا دعویٰ کر رہا ہے کہ یہ معاہدہ اسرائیل کو لبنان سے دستبردار ہونے پر مجبور کر دے گا - اور یہ کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز تجارتی ٹریفک کے لیے کھول دی جائے گی لیکن اس کیلئے ایران اور عمان کی طرف سے مقرر کردہ شرائط لاگو ہوں گی۔ حالانکہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے آبی جہازوں کی آمد ورفت بلا روک ٹوک بحال ہوگی لیکن معلوم ہوا ہے کہ ایران دنیا کی سب سے اہم آبی گزرگاہ کے لیے ٹول بوتھ آپریٹر کے طور پر کام جاری رکھ سکتا ہے۔ یہ تہران کی حکومت کے لیے ایک بڑی اقتصادی جیت ہوگی۔ اس کے علاوہ، معاہدے کے ایک حصے کے طور پر، امریکہ سے ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 25 بلین ڈالر بحال کئے جائیں گے جبکہ ایران کو پابندیوں میں نمایاں ریلیف ملے گا۔ لبنان میں اسرائیل کے تازہ حملوں کے باوجود ایران کو ایک معاہدے تک پہنچنے کی ترغیب دینے کے لیے، ٹرمپ نے معاہدے پر دستخط ہوتے ہی اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے یہ ناکہ بندی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے جواب میں شروع کی گئی تھی۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments