تہران (18 جون 2026): ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کے جامع متن پر ایران اور امریکا دونوں کے صدور نے دور سے دستخط کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں جنگ کے خاتمے سے متعلق یہ معاہدہ مکمل طور پر قانونی طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی ملاقات معاہدے پر دستخط کے لیے نہیں، سوئٹزرلینڈ میں ملاقات ہوگی یا نہیں، اگلے چند گھنٹوں میں فیصلہ متوقع ہے، تاہم جنیوا میں مذاکراتی ٹیموں کی شرکت بدستور شیڈول کے مطابق رہے گی۔ اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ہمارے پاس افزودہ یورینیم کو کم درجے پر لانے کا آپشن موجود ہے، ایرانی جوہری مواد ملک سے باہر نہیں بھیجا جائے گا، ایران کے میزائل پروگرام پر مذاکرات نہیں کیے جا سکتے، ایران کے میزائلوں کے بارے میں کوئی دوسرا ملک گفتگو کرے یہ بالکل پسند نہیں۔ انھوں نے کہا آبنائے ہرمز میں جہازوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے بدلے فیس وصول کی جائے گی، اور 60 دنوں میں دوسرے فریق کو خطے میں فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں کرنا چاہییے، نہ ہی دوسرے فریق کو نئی پابندیاں عائد کرنی چاہئیں۔ ترجمان نے کہا ایران پر عائد تیل کی پابندیاں ختم ہونی چاہئیں، ایران کو آج سے آئندہ 60 دنوں تک اپنا تیل فروخت کرنے کی اجازت ملنی چاہیے، امریکا پابند ہے کہ ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی کے سلسلے میں رکاوٹیں دور کرے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع