International

ایران حملے روک دے تو سفارت کاری کے ذریعے کوئی راستہ نکال سکتے ہیں: قطر

ایران حملے روک دے تو سفارت کاری کے ذریعے کوئی راستہ نکال سکتے ہیں: قطر

قطر کا کہنا ہے کہ سفارت کاری تبھی ممکن ہے اگر ایران حملے کرنا بند کر دے۔ قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کا کہنا ہے کہ ’اگر وہ حملے روک دیتے ہیں، تو ہم سفارت کاری کے ذریعے کوئی راستہ نکال سکتے ہیں۔ لیکن جب تک ہمارے ممالک پر حملے ہوتے رہیں گے، تو یہ کمیٹیاں قائم کرنے کا وقت نہیں ہے۔‘ ’یہ وقت ہے کہ ہم اپنے ممالک کی حفاظت کے لیے ایک اصولی موقف اختیار کریں اور ان کے لیے کہ وہ فوری طور پر ہم پر حملے کرنا بند کر دیں۔‘ ماجد الانصاری جس کمیٹی کا حوالہ دے رہے ہیں اس کی کی تجویز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دی تھی تاکہ خلیجی ریاستوں میں شہری انفراسٹرکچر پر ہونے والے حملوں کی تحقیقات کی جا سکے۔ ایران ان حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتا آیا ہے۔ ماجد الانصاری اس بات کو صاف طور پر مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک شہری اہداف پر حملے اور ان کے خلاف دھمکیوں کا سلسلہ رکا نہیں ہے۔ انھوں نے سنیچر کے روز داغے گئے ایک میزائل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا نشانہ دوحہ کا ایک رہائشی علاقہ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت انخلا کے احکامات جاری کرنے کا فیصلہ جزوی طور پر ایرانی میڈیا میں چلنے والی ان خبروں کے بعد کیا گیا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ رہائشی اور تجارتی علاقوں میں واقع مخصوص کمپنیوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ان علاقوں میں گوگل، امریکن ایکسپریس اور مائیکروسافٹ جیسی امریکی کمپنیوں کے دفاتر واقع تھے۔ الانصاری کا کہنا ہے کہ قطر بحران کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن وہ اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان کسی باضابطہ ثالثی سے آگاہ نہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments