International

ایران اپنا جوہری پروگرام "ختم کرنے" پر راضی ہو گیا ہے: امریکی عہدے دار

ایران اپنا جوہری پروگرام "ختم کرنے" پر راضی ہو گیا ہے: امریکی عہدے دار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے تحت ہونے والا معاہدہ "کارکردگی سے مشروط" ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تہران کو معاہدے کے تحت اپنی ذمے داریوں پر عمل درآمد سے پہلے اپنے منجمد اثاثوں میں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا۔ مذکورہ امریکی اعلیٰ عہدے دار نے آج جمعے کے روز بات کرتے ہوئے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی۔ ان کا کہنا ہے کہ معاہدے میں ایرانی جوہری مواد کو "تباہ اور ختم کرنے" اور جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی شق شامل ہے۔ عہدے دار نے مزید کہا کہ "ان کے فنڈز میں سے کوئی بھی رقم اس وقت تک جاری نہیں کی جائے گی جب تک وہ معاہدے کی شقوں پر عمل کرنے کا عہد نہ کر لیں۔ آبنائے ہرمز کھلا رہے گا اور ایران دہشت گرد گروہوں کو کوئی فنڈنگ فراہم نہیں کرے گا"۔ عہدے دار نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا "انہوں نے اسی پر اتفاق کیا ہے۔ یہ ایک ایسا معاہدہ ہے جو کارکردگی پر مبنی ہے۔" دوسری جانب فرانسیسی خبر رساں ادارے نے ایک اور امریکی عہدے دار کا حوالہ دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو "ختم کرنے" اور افزودہ یورینیم سے چھٹکارا حاصل کرنے پر راضی ہو گیا ہے۔ عہدے دار نے ایجنسی کو بتایا "انہوں نے اسی پر اتفاق کیا ہے"... اور پانچ نکات پر مشتمل فہرست پیش کی جو یہ ہیں : "ایرانی جوہری مواد کو تباہ اور ختم کرنا، جوہری پروگرام کو ختم کرنا، ان کے (منجمد) فنڈز اس وقت تک جاری نہ کرنا جب تک وہ شرائط پر عمل نہ کریں، آبنائے ہرمز کو کھولنا اور ایران کا دہشت گرد گروہوں کو فنڈنگ کرنے سے باز رہنا۔" یہ سب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی خبر رساں ادارے "مہر" کی جانب سے شائع کردہ معاہدے کے مسودے میں ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 24 ارب ڈالر کی رہائی کا ذکر کیا گیا ہے۔ "مہر" نے اطلاع دی ہے کہ یہ یاد داشت "حتمی معاہدے پر بات چیت کے لیے 60 دنوں کی مہلت کے دوران ایران کے 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرنے" کی اجازت دیتی ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ اس رقم کا نصف حصہ حتمی معاہدے پر "مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ایران کے لیے دستیاب ہو جائے گا۔" ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج جمعے کے روز کہا کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کی شقوں کے بارے میں ایران کے سامنے آنے والے بیانات اس چیز کی نمائندگی نہیں کرتے جس پر درحقیقت اتفاق ہوا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں لکھا "ایران کی طرف سے اِفشا کی گئی شقوں کا ان شقوں سے کوئی تعلق نہیں ہے جن پر تحریری طور پر اتفاق کیا گیا ہے۔ انہوں نے جو کہا اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے"۔ امریکی صدر کے مطابق "انہوں (ایرانیوں) نے جو کچھ کہا، بشمول معاہدے کے موجود ہونے کا ان کا افسوس ناک بیان، حقیقت کے قریب بھی نہیں ہے۔" امریکی صدر کا خیال ہے کہ ایرانی حکام "معاملات میں دیانت داری کا فقدان رکھتے ہیں، اور حسن نیت سے معاملہ کرنے کا مطلب نہیں جانتے"۔ امریکی صدر نے مزید کہا "انہیں تیزی سے اپنے معاملات درست کرنے چاہئیں!" اس سے قبل آج جمعے کے روز ایرانی سرکاری میڈیا نے کہا تھا کہ تہران امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی یاد داشت کے مسودے کے تحت آبنائے ہرمز پر کنٹرول ترک نہیں کرے گا اور کسی بھی مذاکرات میں جوہری فائل میں اپنے حقوق پر قائم رہے گا۔ ایران نے جمعے کو اعلان کیا کہ اس نے ٹرمپ کی طرف سے مشرق وسطیٰ میں جنگ ختم کرنے کے لیے اعلان کردہ معاہدے اور اس ہفتے کے آخر سے اس پر دستخط کرنے کے امکان کے بارے میں بات چیت کے حوالے سے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا ہے۔ سرکاری ایجنسی "ارنا" نے اطلاع دی ہے کہ "اس متن کے بنیادی خدوخال" کو حتمی شکل دی جا رہی ہے لیکن اس نے زور دیا کہ "ایران اس متن میں آبنائے کا انتظام چھوڑنے یا امریکی اسرائیلی فوجی جارحیت سے پہلے والے حالات کی طرف واپسی کے بارے میں کوئی وعدہ نہیں کر رہا ہے۔" دوسری جانب ایرانی خبر رساں ادارے "مہر" نے مفاہمت کی یاد داشت کے 14 نکات پر مشتمل مسودہ شائع کیا، جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ہے۔ مہر نے بتایا کہ یادداشت میں "تمام محاذوں پر، بشمول لبنان، دشمنی کی کارروائیوں کو فوری اور مستقل طور پر روکنا" شامل ہے۔ اس نے مزید کہا کہ یہ "جوہری مسائل پر معاہدے تک پہنچنے اور امریکی ابتدائی اور ثانوی پابندیوں کے مکمل خاتمے کے مقصد کے لیے مذاکرات کے لیے 60 دن" دیتی ہے۔ اس حوالے سے "ارنا" نے اس بات کی نشان دہی کی کہ ایران امریکہ کے ساتھ کسی بھی مذاکرات میں جوہری شعبے میں اپنے "حقوق" پر قائم رہے گا۔ اس نے کہا "ایران جوہری پروگرام پر خصوصی طور پر اسلامی جمہوریہ کے بنیادی حقوق کے دائرہ کار میں مذاکرات کرے گا اور یورینیم افزودہ کرنے اور افزودہ مواد کو برقرار رکھنے کے ایران کے حق جیسے مسائل پر توجہ مرکوز کی جائے گی، جبکہ انہیں حتمی معاہدے میں شامل کرنے کے لیے کام کیا جائے گا"۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments