عمان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ ملک اور ایران نے بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے معاہدے تک پہنچنے کے مقصد سے اپنے تکنیکی اور سیاسی مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اس مسئلے پر بات چیت کے لیے عمان گئے ہیں۔ آج اپنے دورے کے دوران انھوں نے عمانی وزیر خارجہ بدر بسیدی سے ملاقات کی۔ عباس عراقچی نے اپنے ٹیلیگرام چینل پر لکھا کہ دونوں ممالک نے ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق 5 کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کے محفوظ گزرنے کے لیے مناسب طریقہ کار پر خیالات کا تبادلہ کیا۔‘ ادھر ایک امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ میڈیا میں بعض قیاس آرائیوں کے باوجود امریکی تکنیکی ٹیم عمان میں جاری مذاکرات میں براہ راست شریک نہیں ہوگی۔ تاہم امریکہ عمانی اور قطری حکام کے ذریعے مذاکراتی عمل سے رابطے میں رہے گا۔ یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں جاری ہیں جب گذشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں کم از کم تین تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کے بعد قطر، سعودی عرب اور امریکہ نے ان حملوں کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا تھا۔ ان واقعات کے بعد امریکہ نے مسلسل دو رات ایران میں مختلف اہداف پر فوجی حملے کیے، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ پریس ٹی وی، جو ایران کا سرکاری انگریزی زبان کا نیوز چینل ہے، نے ایک سینیئر انٹیلی جنس ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے لیے اپنے انتظامی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے اور ’امریکی دھمکیوں، نفسیاتی دباؤ اور میڈیا مہم‘ کے سامنے پسپائی اختیار نہیں کرے گا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل اقوام متحدہ کی میری ٹائم ایجنسی کی گورننگ کونسل نے رکن ممالک کو مشورہ دیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کے دعوے اور آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت کی نگرانی سے متعلق اس کے ’یکطرفہ فیصلے‘ کو تسلیم نہ کریں۔ سعودی اور امریکی وزرائے خارجہ کا رابطہ، خطے کے امن اور سمندری سلامتی پر زور سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان بھی رابطہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فون پر گفتگو کے دوران خطے کی تازہ صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی اور امریکی قیادت نے مختلف سیاسی سطحوں پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر بحری جہازوں اور اہم سمندری گزرگاہوں کی سلامتی کی اہمیت پر زور دیا گیا، جبکہ خطے میں استحکام کے لیے کی جانے والی تمام سفارتی اور سیاسی کوششوں کی حمایت کا اعادہ بھی کیا گیا۔ یہ رابطے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب گذشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد سعودی عرب اور امریکہ ایران پر ان حملوں کی ذمہ داری عائد کر چکے ہیں، تاہم تہران نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، اور وہاں پیدا ہونے والی کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں اور علاقائی سلامتی پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع