International

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اسرائیل پر مغربی کنارے کے الحاق کو سرکاری ہدف بنانے کا الزام

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اسرائیل پر مغربی کنارے کے الحاق کو سرکاری ہدف بنانے کا الزام

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیلی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق کو باضابطہ طور پر ایک "اعلان شدہ سیاسی ہدف" بنا لیا ہے۔ یہ بات ایک رپورٹ کی اشاعت کے بعد سامنے آئی جس میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ ساڑھے تین برسوں کے دوران اسرائیلی حکام نے مغربی کنارے میں ریاستی سرپرستی میں نسلی تطہیر کی مہم تیز کر دی ہے۔ اس دوران فلسطینی برادریوں کو ان کی زمینوں سے اکھاڑ پھینکا گیا، ان کی املاک چھین لی گئیں اور انہیں جبری طور پر نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔ حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی تنظیم نے مزید کہا کہ یہ حملے چند "بگڑے ہوئے عناصر" کا کام نہیں ہیں۔ تنظیم نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا کہ آباد کاروں کی سفاکیت ریاستی سرپرستی میں جاری نسلی تطہیر کی مہم کا ایک بنیادی عنصر ہے اور اسرائیل کے نسل پرستانہ نظام کو برقرار رکھنے میں اسے مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کی جانب سے سنہ 2025ء کے ماہ مارچ میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں مغربی کنارے میں جنگی جرائم کے ارتکاب کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ آباد کاروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر کی جانے والی توسیعی سرگرمیاں مربوط اقدامات اور اجتماعی نقل مکانی کی پالیسی کا ثبوت ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں اسرائیل پر الزام لگایا گیا کہ وہ فلسطینیوں کو زبردستی اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبور کر رہا ہے اور انہیں آمدنی کے ذرائع سے محروم کر کے فرار ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ تنظیم نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکومت نے ان حملوں سے نہ صرف کھلے عام چشم پوشی کی بلکہ انہیں آسان بھی بناتے ہوئے آباد کاروں کے جرائم کی سرپرستی کی۔ رپورٹ میں عالمی برادری پر بھی تنقید کی گئی اور اسے بین الاقوامی قوانین کی بار بار اور سنگین خلاف ورزیوں کے سامنے یا تو "شریک جرم یا مکمل طور پر غافل" قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اسرائیلی نسلی تطہیر اور مغربی کنارے کے الحاق کے اقدامات کے لیے خاموش منظوری کے دور کے خاتمے کا واضح اعلان کیا جانا چاہیے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments