International

اسرائیلی پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی منظوری، قبل از وقت انتخابات کا امکان

اسرائیلی پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی منظوری، قبل از وقت انتخابات کا امکان

اسرائیلی پارلیمنٹ "کنیسٹ" نے بدھ کے روز خود کو تحلیل کرنے کے مسودہ قانون کی ابتدائی منظوری دے دی ہے، جس کے نتیجے میں آئندہ عام انتخابات چند ہفتے قبل کرائے جانے کا امکان ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ان انتخابات میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کو شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ قبل از وقت انتخابات کی حتمی تاریخ کا ابھی تعین نہیں کیا گیا۔ قانونی طور پر اسرائیل میں ہر چار سال بعد انتخابات کا انعقاد ہونا چاہیے، لیکن وہاں اکثر قبل از وقت انتخابات ہوتے رہتے ہیں۔ گذشتہ انتخابات سنہ 2022 کے نومبر میں ہوئے تھے، جبکہ اگلے انتخابات کی آخری آئینی تاریخ 27 اکتوبر ہے۔ پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کے حق میں ووٹنگ کے بعد اب ارکان کو ایک تاریخ پر متفق ہونا ہوگا۔ اسرائیل کے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ستمبر کے پہلے نصف حصے میں انتخابات کا انعقاد زیادہ متوقع ہے، تاہم یہ اکتوبر کے آخر میں مقررہ آخری تاریخ کے قریب بھی جا سکتے ہیں۔ کنیسٹ کی جانب سے خود کو تحلیل کرنے کے لیے ووٹنگ کا یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بنجمن نیتن یاھو کے روایتی سیاسی اتحادی کٹر مذہبی یہودی رہنماؤں نے رواں ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ اب بنجمن نیتن یاھو کو اپنا شراکت دار تسلیم نہیں کرتے اور قبل از وقت انتخابات چاہتے ہیں۔ مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ یہ قدم اس لیے اٹھا رہے ہیں کیونکہ اتحادی حکومت نے ان کے طبقے کو اسرائیلی فوج میں لازمی سروس سے استثنیٰ دینے کا قانون پاس کرنے کا اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں بھی طویل عرصے سے بنجمن نیتن یاھو کی حکومت کو گرانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ گذشتہ جون میں حکومت گرانے کی ایسی ہی ایک کوشش ناکام ہو گئی تھی، لیکن اس بار کامیابی کی صورت میں خواہ انتخابات صرف چند ہفتے ہی پہلے کیوں نہ ہوں اپوزیشن کی مہم کو ایک نئی توانائی ملے گی اور مخلوط حکومت کی جانب سے متنازع قانون سازی کو فروغ دینے کی صلاحیت محدود ہو جائے گی۔ حالات پر قابو پانے کی کوشش میں مخلوط حکومت نے خود بھی 13 مئی کو کنیسٹ کو تحلیل کرنے کا اپنا ایک مسودہ قانون پیش کیا تھا۔ اگر یہ مسودہ قانون کنیسٹ کو تحلیل کرنے کی ابتدائی ووٹنگ کا مرحلہ پار کر لیتا ہے تو اسے انتخابات کی تاریخ طے کرنے کے لیے کمیٹی کے پاس بھیجا جائے گا اور پھر حتمی منظوری کے لیے ایوان میں لایا جائے گا۔ آخری مرحلے میں کنسٹ کے 120 ارکان میں سے 61 ارکان کی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ یہ عمل تیزی سے بھی مکمل ہو سکتا ہے اور اس میں کئی ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔ سنہ 2022ء میں اسرائیل کی تاریخ کی بدترین دائیں بازو کی حکومت کے سربراہ کے طور پر سیاسی منظر نامے پر دوبارہ لوٹنے کے ایک سال سے بھی کم عرصے کے بعدسات اکتوبر سنہ 2023 ءکے حملے کے نتیجے میں بنجمن نیتن یاھو کی سکیورٹی ساکھ کو شدید دھچکا لگا اور ان پر عوام کا اعتماد اٹھ گیا۔ اس واقعے کے بعد سے رائے عامہ کے جائزے مسلسل یہ دکھا رہے ہیں کہ بنجمن نیتن یاھو کے حکمران اتحاد کو پارلیمانی اکثریت حاصل نہیں رہی۔ تاہم یہ امکان بھی موجود ہے کہ اپوزیشن جماعتیں بھی نیا اتحاد بنانے میں ناکام رہیں، جس کی صورت میں بنجمن نیتن یاھو سیاسی جمود کے خاتمے تک نگران حکومت کے سربراہ بنے رہیں گے۔ ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے جب سنہ 2022 کے انتخابات سے قبل اسرائیل نے غیر واضح نتائج کے حامل انتخابات کا ایک سلسلہ دیکھا تھا، جس میں چار سال سے بھی کم عرصے میں پانچ بار ووٹنگ کرائی گئی تھی۔ بنجمن نیتن یاھو کے اہم ترین حریف نفتالی بینیٹ ہیں، جو ان کے سابق مشیر رہ چکے ہیں اور انہوں نے سنہ 2021 کے انتخابات میں انہیں اقتدار سے بے دخل کر کے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا تھا۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے نفتالی بینیٹ اب وسطی بائیں بازو کے اپوزیشن لیڈر یائر لپیڈ کے ساتھ مل کر "معاً" (ایک ساتھ) کے نام سے ایک نئی پارٹی بنا چکے ہیں اور وہ مقبولیت کے گراف میں بنجمن نیتن یاھو کی جماعت "لیکوڈ" کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں۔ دیگر حریفوں میں سابق چیف آف اسٹاف اور وسطی نظریات کے حامل وزیر گیڈی آئزنکوٹ شامل ہیں جو عوامی جائزوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ تمام حریف ملتے جلتے انتخابی منشور کے ساتھ مہم چلا رہے ہیں، جس کا مقصد بنجمن نیتن یاھو سے ناراض ووٹروں کو اپنے حق میں کرنا ہے۔ ان کا پیغام 7 اکتوبر کے صدمے اور غزہ، لبنان اور ایران میں جاری جنگوں کے بعد اسرائیل کو دوبارہ درست راستے پر ڈالنا ہے، جنہوں نے اسرائیلی معیشت اور اس کے بین الاقوامی وقار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments