International

اسرائیلی فوج نے غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا کو روک لیا

اسرائیلی فوج نے غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا کو روک لیا

اسرائیلی افواج نے پیر کے روز غزہ جانے والے امدادی بحری بیڑے کو روک لیا، جو گزشتہ ہفتے ترکی سے روانہ ہوا تھا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس مشن کو ایک ’شر انگیز منصوبہ‘ قرار دیا جس کا مقصد حماس کی حمایت کرنا تھا۔ ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی سرگرم کارکنوں کی حالیہ کوششوں میں سے ایک ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایک امدادی قافلے کو اسرائیلی افواج نے روک لیا تھا۔ گروپ نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ ’گلوبل صمود فلوٹیلا حملے کی زد میں ہے۔‘ گروپ کے بیان مطابق فلوٹیلا میں سوار امدادی کارکنان میں پاکستان سے سماجی کارکن سعد ایدھی بھی شامل ہیں۔ گروپ کے مطابق ’فوجی جہاز اس وقت ہمارے بیڑے کو گھیر رہے ہیں اور اسرائیلی افواج دن دہاڑے ہماری پہلی کشتی پر سوار ہو رہی ہیں۔‘ فلوٹیلا کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ایک ویب سائٹ کے مطابق کئی جہاز قبرص کے مغرب میں روکے گئے۔ گروپ نے کہا کہ ’ہم اپنے قانونی اور پُرامن انسانی ہمدردی کے مشن کے لیے محفوظ راستے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ حکومتوں کو فوری کارروائی کرنی چاہیے تاکہ ان غیر قانونی اقدامات یا قزاقی کو روکا جا سکے، جن کا مقصد غزہ پر اسرائیل کی نسل کش محاصرہ برقرار رکھنا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’قبضے کے تشدد کو معمول بنانا ہم سب کے لیے خطرہ ہے۔‘ نیتن یاہو نے غزہ تک سمندری راستے سے امداد پہنچانے کی اس نئی کوشش کی مذمت کی۔ انہوں نے کارروائی کرنے والی فورس کے کمانڈر سے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ آپ غیر معمولی کام کر رہے ہیں... ایک ایسے شر انگیز منصوبے کو ناکام بنا رہے ہیں جس کا مقصد غزہ میں حماس کے دہشت گردوں پر ہماری عائد کردہ ناکہ بندی کو توڑنا ہے۔‘ ان کے دفتر کے بیان کے مطابق، نیتن یاہو نے کہا کہ ’آپ یہ کام شاندار کامیابی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں... اور یقیناً ہمارے دشمنوں کی توقع سے کہیں کم شور شرابے کے ساتھ۔‘ اس سے قبل اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے اس قافلے کو اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسے غزہ پہنچنے سے روکا جائے گا۔ وزارت نے پیر کو ایکس پر لکھا کہ ’اس بار دو شدت پسند ترک گروہ، ماوی مرمرہ اور آئی ایچ ایچ، اس اشتعال انگیزی کا حصہ ہیں۔ آئی ایچ ایچ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔‘ تقریباً 50 جہاز جمعرات کو جنوب مغربی ترکی سے روانہ ہوئے تھے۔ ترکی نے اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیل کی جانب سے ’قزاقی کی ایک نئی کارروائی ہے۔‘ غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل اور ترکی کے تعلقات خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ گلوبل صمود فلوٹیلا کے ترکی ونگ کے رکن، کارکن گورکیم دورو، جو خود جہاز پر موجود نہیں تھے، نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’جہازوں سے رابطے منقطع کر دیے گئے ہیں۔‘ ایک اور کارکن، شعیب اردو، جو ایک جہاز پر موجود تھے، نے ترک چینل این ٹی وی کو بتایا کہ ’ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ ہم ہاتھ اٹھا کر پُرامن طور پر ہتھیار ڈال دیں، بغیر کسی مزاحمت کے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ہم وہاں لڑنے یا تشدد کرنے نہیں جا رہے؛ ہم دنیا کو اس کے برعکس ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments