لبنان کے صدر جوزف عون کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا تعلق امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات یا ’کسی اور قسم کی بات چیت‘ سے نہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں لبنانی صدر کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے اگلے دور میں لبنانی وفد کی قیادت امریکہ میں لبنان کے سابق سفیر سائمن کرم کریں گے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ لبنان کی جانب سے اس مشن میں نہ تو کوئی اور شریک ہوگا اور نہ ہی ان کی جگہ لے گا۔ لبنانی صدر کے مطابق مذاکرات کے مقاصد میں عسکری کارروائیوں کا خاتمہ‘ لبنان کے جنوبی علاقوں پر اسرائیلی ’قبضے کا خاتمہ‘ اور لبنان کی ’بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ جنوبی سرحدوں‘ تک اس کی فوج کی تعیناتی شامل ہے۔ ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی لبنان کے مطالبات کو پوری طرح سے سمجھتے ہیں اور مذاکرات کے اگلے دور کی راہ ہموار کرنے میں مدد کی ہے۔ لبنانی صدر کا کہنا ہے کہ ’پوری امید ہے کہ ہم لبنان کو بچانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔‘ تاہم دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں سرحد سے تقریباً 10 کلومیٹر (6.2 میل) اندر تک تعینات رہے گی۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی