ایس آئی آر میں ’درانداز‘ کہاں ملے؟ کانگریس کا سوال
کانگریس نے جمعرات کو سوال اٹھایا کہ ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) سے آخر کیا حاصل ہوا ہے۔ پارٹی نے ایک خبر کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ چھ ریاستوں میں تقریباً 10 کروڑ لوگوں کی جانچ کے دوران صرف 1,600 غیر ملکی شہریوں کی نشاندہی کی گئی۔
کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ”وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ ایس آئی آر کا مقصد تین ڈی پر مبنی ہے: دراندازوں کی شناخت کرنا، ان کے نام حذف کرنا اور انہیں ملک بدر کرنا، تاکہ ووٹر لسٹوں کو ’پاک‘ کیا جا سکے۔“
انہوں نے سوال کیا، ”ایس آئی آر سے حقیقت میں کیا حاصل ہوا؟ کرناٹک، جھارکھنڈ، میگھالیہ، کیرالہ، گوا اور میزورم، ان چھ ریاستوں میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے صرف 1,600 غیر ملکی شہریوں کی ’شناخت کرکے نام حذف کیے گئے‘۔ ان ریاستوں میں تقریباً 10 کروڑ لوگوں کی ایس آئی آر کے تحت جانچ کی گئی، تاکہ 1,600 ’غیر ملکیوں‘ کو تلاش کیا جا سکے۔“
انہوں نے الزام لگایا، ”دیگر 20 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے اعداد و شمار فراہم نہیں کیے، کیونکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے ایسے اعداد و شمار جمع کرنے کی ہدایت ہی نہیں دی تھی۔ واضح طور پر وزیر داخلہ جھوٹ بول رہے تھے۔“
کرناٹک میں، جہاں 99.7 لاکھ نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے ہیں، 716 غیر ملکی شہریوں کی نشاندہی ہوئی، جن میں سے 545 نیپال کے شہری ہیں۔
جے رام رمیش نے الزام لگایا، ”یہ صرف اسی بات کو ثابت کرتا ہے جو شروع سے واضح رہی ہے کہ ایس آئی آر کا مقصد ہندوستانیوں کے بہت بڑے طبقے سے ان کا آئینی حقِ رائے دہی چھیننا تھا۔“
انہوں نے ایکس پر لکھا، ”ایس آئی آر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی جوڑی کی تیار کردہ سازش تھی، جسے چیف الیکشن کمشنر نے ای سی آئی نیٹ سمیت مختلف طریقوں سے نافذ کیا۔“
انہوں نے اپوزیشن کے مطالبات کو دہراتے ہوئے کہا، ”گیانیش کمار کو عہدے سے جانا ہوگا۔ ایس آئی آر کو معطل کرنا ہوگا۔ ای سی آئی نیٹ میں اصلاحات کرکے اسے نئے سرے سے بہتر بنانا ہوگا۔“
بی جے پی کا موقف رہا ہے کہ ایس آئی آر کا مقصد ووٹر لسٹوں کو درست کرنا اور ان لوگوں کو خارج کرنا ہے جنہیں پارٹی درانداز قرار دیتی ہے۔
بی جے پی کے صدر نتن نوین نے بدھ کو دہلی میں پارٹی کی جانب سے نکالی گئی ”لوکتنتر بچاو¿، انارکی ہٹاو¿“ (جمہوریت بچاو¿، انارکی ختم کرو) ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”وہ ’فرضی ووٹروں‘ کی فہرست چاہتے ہیں، یعنی ایسے لوگوں کی جن کا کوئی قابلِ تصدیق پتہ یا ٹھکانہ موجود نہیں ہے۔“ یہ ریلی اپوزیشن کی جانب سے ووٹ چوری کے خلاف جاری مہم کے جواب میں نکالی گئی تھی۔
بی جے پی صدر نے کہا، ”وہ ایسی ووٹر لسٹ چاہتے ہیں جس کے ذریعے ان کا اپنا کاروبار اور سیاسی گورکھ دھندا چلتا رہے۔ لیکن ہم چیزوں کو درست کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔“
انہوں نے مزید کہا، ”راہل گاندھی، آپ کو ان ووٹروں کی فکر کیوں ہے جن کا کوئی پتہ نہیں چلتا؟ ’گھس پیٹھیوں‘ (دراندازوں) کے لیے یہ کیسی محبت ہے؟ آپ دراندازوں کے ذریعے کانگریس اور ملک کی سیاست چلانا چاہتے ہیں۔۔۔ کیا آپ کو ہندوستان کے 140 کروڑ شہریوں پر بھروسا نہیں ہے؟“
نتن نوین نے کہا کہ ووٹر لسٹوں کو درست کیا جائے گا اور ہر اس ’ایماندار‘ ہندوستانی کا نام شامل کیا جائے گا جسے ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ”دراندازوں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے جائیں گے، اور اس کے لیے بی جے پی کارکن پوری طرح جدوجہد کرنے کے لیے تیار ہیں۔“
ایس آئی آر میں ’درانداز‘ کہاں ملے؟ کانگریس کا سوال...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments