سماون شیخ کے انکاونٹر کے خلاف دھولیان بند
بدھ کے روز دھولیان کے ڈاک بنگلہ چوراہے پر خوفناک خاموشی چھائی رہی۔ اس سے ایک روز قبل پولیس نے بی جے پی کارکن سجیت مونڈل کے قتل کے اہم ملزم سماون شیخ کو جائے واردات کی ازسرِ نو منظرکشی کی مشق کے دوران گولی مار دی تھی۔ سجیت مونڈل کا قتل 28 اگست کو ہوا تھا۔
عام طور پر گہماگہمی سے بھرے رہنے والے بازار میں سناٹا چھایا رہا۔ جس عمارت میں بی جے پی کارکن کا قتل ہوا تھا، اس کی زیادہ تر دکانیں بند رہیں۔ سڑک کے دوسری جانب کھلی ہوئی دکانوں پر بھی گاہک نہیں پہنچے۔ پولیس کی بھاری نفری نے ماحول کو مزید سوگوار بنا دیا تھا۔ اہلکار پورے علاقے میں تعینات تھے اور محلے پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے، جس میں وہ مکان بھی شامل تھا جہاں سماون کرائے پر رہتا تھا۔
ایک دکاندار نے کہا، ”دھولیان میں ایسا منظر غیر معمولی ہے۔ ہم نے اس سے پہلے کبھی بازار کے علاقے کو اتنا خاموش نہیں دیکھا۔ دکانوں پر کوئی گاہک نہیں آیا۔ صرف پولیس اہلکار ہی ادھر ا±دھر آتے جاتے نظر آ رہے تھے۔“
جس عمارت کی پہلی منزل پر سماون رہتا تھا، اس کی گراو¿نڈ فلور کی کئی دکانوں کے شٹر بند رہے۔ الزام ہے کہ سجیت کا قتل بھی اسی عمارت میں ہوا تھا۔ سڑک کے دوسری جانب موبائل فون اور کپڑوں کی کچھ دکانیں کھلی تھیں، لیکن گاہکوں کی عدم موجودگی سے لوگوں میں پھیلی بے چینی واضح تھی۔
عمارت کے سامنے موبائل فون کی دکان چلانے والے مسعود الحسن نے کہا کہ مقامی لوگ فائرنگ کے واقعے سے اب تک سنبھل نہیں پائے ہیں۔
حسن نے کہا، ”دھولیان یا پورے سمشیر گنج میں اس سے پہلے ایسا انکاو¿نٹر کبھی نہیں ہوا۔ لوگ خوف زدہ ہیں اور اس سڑک سے گزرنے سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس عمارت کی ایک بھی دکان نہیں کھلی۔ ہم نے اس طرف چند دکانیں کھولیں، لیکن بازار میں کوئی گاہک نہیں آیا۔“
پولیس کی اس مبینہ ماورائے عدالت ہلاکت کے بعد نوتون مامریج پور گاو¿ں میں بھی غصہ اور شکوک و شبہات پائے جا رہے ہیں، جہاں سماون کا آبائی گھر ہے۔
گاو¿ں کے رہائشی محمد سلیمان نے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، ”پولیس نے پورا واقعہ خود ہی رچایا۔ سماون نے نہ تو اسلحہ چھینا تھا اور نہ ہی کسی پر گولی چلائی تھی۔ گرفتاری کے دو ماہ بعد اسے یہاں کیوں لایا گیا؟ وہ عدالتی حراست میں تھا۔ اگر اس نے جرم کیا تھا تو قانونی کارروائی کے ذریعے اسے سزا دی جا سکتی تھی۔ پولیس اسے یہاں کیوں لائی اور اسے کیوں مار ڈالا؟“سماون کے بھائی اماو¿ل شیخ نے کہا، ”ہم فیصلہ کریں گے کہ آگے کیا کرنا ہے۔“
یہ فائرنگ منگل کی دوپہر اس وقت ہوئی، جب ریاستی سی آئی ڈی کی ایک ٹیم سجیت مونڈل کے قتل کے واقعات کی ترتیب کو دوبارہ پیش کرنے کے لیے سماون کو دھولیان کے اولڈ ڈاک بنگلہ علاقے میں واقع اس کے کرائے کے مکان پر لے گئی تھی۔ سی آئی ڈی ذرائع کے مطابق، ڈی ایس پی دیباشیش چکرورتی اور انسپکٹر خلیق الزماں بھی موقع پر موجود تھے۔
دھولیان میں فائرنگ کا یہ واقعہ مغربی بنگال میں 24 گھنٹوں کے اندر پولیس انکاو¿نٹر میں ہونے والی دو ہلاکتوں میں سے ایک تھا۔ پیر کی دیر رات شمالی 24 پرگنہ کے گائیگھاٹا میں ایک نوعمر لڑکی کے ساتھ عصمت دری اور قتل کے ملزم نوجوان کو بھی پولیس انکاو¿نٹر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پولیس اہلکاروں کا الزام تھا کہ جائے واردات کی ازسرِ نو منظرکشی کے لیے لے جاتے وقت اس نوجوان نے اسلحہ چھین لیا تھا۔دونوں واقعات میں پولیس کی جانب سے بیان کردہ حالات میں نمایاں مماثلت نے اس سوال پر دوبارہ توجہ مبذول کرائی ہے کہ دونوں معاملات کے اہم ملزمان کی موت کن حالات میں ہوئی۔منگل کی شام سماون کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے جنگی پور سب ڈویڑنل اسپتال بھیجی گئی تھی، لیکن وہاں پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا۔بعد میں لاش کو بہرام پور کے مرشدآباد میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل لے جایا گیا، جہاں دوپہر کے وقت پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ اس کے بعد لاش اہل خانہ کے حوالے کر دی گئی۔
سماون شیخ کے انکاونٹر کے خلاف دھولیان بند...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments