ابھیشیک بنرجی کی ایس آئی آر میں بے ضابطگیوں پر سپریم کورٹ سے نئے انتخابات کرانے کی اپیل
ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت کی انتخابی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی پارٹی کی سابقہ حکومت کو بحال کرے اور چھ ماہ کے اندر نئے انتخابات کرانے کا حکم دے۔
ڈائمنڈ ہاربر کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے یہ بیان اس وقت دیا، جب سپریم کورٹ نے کہا کہ اس نے ابھی تک ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران ووٹروں کی تفصیلات کی جانچ کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے ’منطقی تضاد‘ (Logical Discrepancy) کے زمرے کے استعمال کی قانونی حیثیت پر فیصلہ نہیں کیا ہے۔
اس بات کا مشاہدہ کرتے ہوئے کہ مغربی بنگال میں اس کارروائی کی اجازت پہلے صرف ایک عبوری انتظام کے طور پر دی گئی تھی، چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ بہار میں ایس آئی آر کے معاملے میں اس کا فیصلہ، ایس آئی آر سے پیدا ہونے والے ہر مسئلے پر حتمی فیصلہ نہیں تھا۔
سپریم کورٹ کے مشاہدات سے متعلق ایک خبر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ابھیشیک بنرجی نے سوشل میڈیا پر لکھا، ”کیا سہولت بخش جمہوریت ہے! اگر ایک ہیرا پھیری سے حاصل کردہ عوامی مینڈیٹ ایک مکمل حکومت تشکیل دے سکتا ہے، تو پھر انتخابی جواز کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟ اس منطق کے مطابق، موجودہ ریاستی حکومت کو عبوری حکومت سمجھا جانا چاہیے۔“
انہوں نے مزید کہا، ”سپریم کورٹ کو مغربی بنگال کی سابقہ منتخب حکومت بحال کرنی چاہیے اور چھ ماہ کے اندر نئے انتخابات کرانے کی ہدایت دینی چاہیے، تاکہ ہر اس اہل ووٹر کا نام دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل کیا جا سکے، جسے غلط طریقے سے فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے۔ بصورت دیگر، اس منطق میں صرف ایک ہی چیز ’منطقی‘ ہے کہ کس طرح سہولت کے مطابق تضادات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔“
سپریم کورٹ نے یہ مشاہدات اس وقت کیے، جب وہ دہلی میں جاری ایس آئی آر کے دوران ووٹروں کو جاری کیے گئے نوٹس میں شفافیت کی کمی کا الزام لگانے والی ایک عرضی پر سماعت کر رہی تھی۔ اسی دوران الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ڈی ایس نائیڈو نے دعویٰ کیا کہ بنچ نے ایس آئی آر کے عمل کے ہر مرحلے کا جائزہ لیا تھا اور اس کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھا تھا۔
جسٹس باگچی نے کہا کہ بہار میں ایس آئی آر کے معاملے میں عدالت کا فیصلہ نظرثانی کے عمل سے پیدا ہونے والے ہر سوال پر حتمی فیصلہ نہیں تھا۔
جسٹس باگچی نے کہا، ”بہار کا معاملہ ان کارروائیوں میں پیدا ہونے والے ہر سوال پر حتمی فیصلہ نہیں ہے۔ بہار میں الیکشن کمیشن نے ابتدا میں ’منطقی تضاد‘ کو ایک زمرے کے طور پر شامل نہیں کیا تھا۔ مغربی بنگال میں ہم نے اسے ایک عبوری انتظام کے طور پر اجازت دی تھی۔ ہم نے ’منطقی تضاد‘ کی کارروائی کی قانونی حیثیت پر ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔“
ابھیشیک بنرجی کی ایس آئی آر میں بے ضابطگیوں پر سپریم کورٹ سے نئے انتخابات کرانے کی اپیل...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments