بنگال میں 80فیصد مسلمانوں اپیلیں مسترد کر دی گئیں
مغربی بنگال میں ایس آئی آر: اپیلوں کے فیصلوں کے منتظر لاکھوں ووٹر، مسترد ہونے والی اپیلوں میں مسلم ووٹروں کی تعداد سب سے زیادہ۔13 اپریل سے 10 ستمبر کے درمیان مغربی بنگال میں اپیلیٹ ٹریبونلز نے 6,444 ایسے ووٹروں کی اپیلیں مسترد کر دیں، جن کے نام ریاست میں عدالتی نظرثانی کے دوران ووٹر لسٹ سے حذف کر دیے گئے تھے۔ مغربی بنگال میں محققین، تجزیہ کاروں اور زمینی سطح پر کام کرنے والے معاونین کے ایک آزاد گروپ، سِوک ریسرچ گروپ، نے ان تمام فیصلوں کی تفصیلات اخبار ’دی وائر‘ کے ساتھ شیئر کیں، جس نے حلقہ وار ان کا تجزیہ کیا۔
ناموں کی بنیاد پر کیے گئے تخمینے کے مطابق، جن ووٹروں کی اپیلیں مسترد ہوئیں، ان میں سے پانچ میں سے چار، یعنی 80.2 فیصد، کے نام مسلم ہیں۔ ان 129 اسمبلی حلقوں میں جہاں یہ اپیلیں مسترد ہوئیں، اقلیتوں کی آبادی ووٹر لسٹ کا تقریباً 22 فیصد ہے۔ ہوگلی میں ان حلقوں میں مسترد ہونے والی اپیلوں میں مسلم ناموں کا حصہ 83 فیصد ہے، جہاں اقلیتیں مجموعی ووٹروں کا 15 فیصد ہیں۔ صرف خاناکول میں 831 اپیلیں مسترد ہوئیں، جن میں سے 96.5 فیصد ایسے ووٹروں کی تھیں جن کے نام مسلم ہیں۔
اپریل سے ستمبر کے درمیان مسترد ہونے والی 6,444 ووٹر اپیلوں کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ ان میں سے 80.2 فیصد ایسے ووٹروں کی تھیں جن کے نام مسلم ہیں۔
لیکن مسترد ہونے والی اپیلیں پوری کہانی کا صرف ایک حصہ ہیں۔ ٹریبونلز دو طرح کی اپیلوں کی سماعت کرتے ہیں۔ تقریباً 22 لاکھ اپیلیں ان ووٹروں کی جانب سے دائر کی گئی تھیں، جن کے نام عدالتی نظرثانی کے دوران ووٹر لسٹ سے حذف کر دیے گئے تھے اور وہ دوبارہ اپنے نام شامل کرانا چاہتے تھے۔ تقریباً 16 لاکھ اپیلیں الیکشن کمیشن نے ان ووٹروں کے نام حذف کرانے کے لیے دائر کی تھیں، جنہیں عدالتی افسران نے اہل قرار دے کر ووٹر لسٹ میں برقرار رکھنے کی منظوری دی تھی۔
ریاست بھر میں دائر کی گئی 38.1 لاکھ اپیلوں میں سے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ سے کچھ زیادہ اپیلوں پر فیصلہ ہوا تھا۔ ان میں سے تقریباً دس میں سے نو ووٹروں کے نام دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل کر دیے گئے۔ مالدہ میں، جہاں 6.85 لاکھ اپیلیں دائر کی گئیں، صرف 0.15 فیصد اپیلوں پر فیصلہ ہوا تھا۔ زیادہ تر اپیل کرنے والوں کے لیے سوال یہ نہیں ہے کہ وہ جیتے یا ہارے، بلکہ یہ ہے کہ کیا کسی نے اب تک ان کی اپیل سنی بھی ہے یا نہیں۔
ٹریبونلز کی صورت حال بھی ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں کافی مختلف ہے۔ پ±ربا بردھمان میں سماعت کرنے والی بنچ نے جن مقدمات پر فیصلہ کیا، ان میں سے 85 فیصد مسترد کر دیے۔ اس کے برعکس، شمالی 24 پرگنہ، نادیہ اور جنوبی دیناج پور کی بنچوں نے ایک بھی اپیل مسترد نہیں کی۔
بنگال میں 80فیصد مسلمانوں اپیلیں مسترد کر دی گئیں...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments