Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

کبھی یہ لوگ ممتا کی تعریفوں کے پل باندھتے تھے، اب آس پاس بھی نظر نہیں آتے!

Admin
By Admin
Oct 14, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

SAHLBONI LAND CSE MEIN ABHISHEK BANERJEE KE PA SUMIT ROY GIRAFTAR, APEX COURT SE NTICIPATORY BAIL HUI KHARIJ

کبھی یہ لوگ ممتا کی تعریفوں کے پل باندھتے تھے، اب آس پاس بھی نظر نہیں آتے!
کبھی یہ لوگ ممتا کی تعریفوں کے پل باندھتے تھے، اب آس پاس بھی نظر نہیں آتے! — October 14, 2026
کبھی یہ لوگ ممتا کی تعریفوں کے پل باندھتے تھے، اب آس پاس بھی نظر نہیں آتے!
شبھا پرسن کہاں ہیں؟ ریاست میں سیاسی اقتدار کی تبدیلی کے بعد سے مصور کی کوئی خبر نہیں ہے۔2006 کے بعد کے دور میں شبھا پرسن ریاست کے سب سے زیادہ سیاسی طور پر سرگرم فنکاروں میں سے ایک تھے۔ وہ بائیں بازو کی جماعتوں پر شدید حملے کرتے تھے۔ بعد میں ان کی تنقید کا نشانہ بی جے پی بنی۔ لیکن جیسے ہی بی جے پی ریاست میں اقتدار میں آئی، وہ غائب ہوگئے!
یہ سوال بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں ہے، لیکن اس کا جواب تقریباً کسی کے پاس نہیں۔ ان کا فون مہینوں سے بند ہے۔ ایسے میں اچانک 20 ستمبر کو وہ ریاست کے بی جے پی وزیر دلیپ گھوش کے ساتھ نظر آئے۔ ایک آرٹ نمائش کی افتتاحی تقریب میں وہ فیتہ کاٹ رہے تھے۔ ان کے ساتھ بی جے پی کے ایک اور رہنما وشوپریہ رائے چودھری بھی موجود تھے۔ حالانکہ اس سے پچھلے مہینے شبھا پرسن کی اہلیہ اور فنکارہ شپرا بھٹاچاریہ کی نمائش میں ریاست کی ایک اور وزیر اگنی مترا پال بھی پہنچی تھیں۔
ممتا کی حمایت کرنے والے فنکاروں، ادیبوں اور دانشوروں کی فہرست میں ممتا کے ’شبھا دا‘ ہمیشہ سرِفہرست رہتے تھے۔ سالٹ لیک میں ان کے گھر پر ممتا بنرجی اور دیگر تخلیقی شخصیات کی میٹنگیں ہوا کرتی تھیں۔ یہ سلسلہ 2006-07 میں سنگور اور نندی گرام تحریک کے وقت سے شروع ہوا تھا۔ ان میٹنگوں میں تحریک کی حکمتِ عملی طے کی جاتی تھی۔ ان میں موسیقی کے شعبے سے کبیر سمن، ادب سے جے گوسوامی، مصوری سے یوگین چودھری اور اداکاری کی دنیا سے شاو¿لی مترا اور ببھاس چکرورتی جیسی شخصیات شریک ہوتی تھیں۔ 2011 میں ترنمول کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ میٹنگیں بند ہوگئیں۔ پھر 2018 میں بی جے پی کے عروج کے بعد دوبارہ شروع ہوئیں۔ ان میٹنگوں کا مقام ایک بار پھر شبھا پرسن کا گھر ہی تھا۔
ایک وقت ایسا بھی تھا جب شبھا پرسن نے ترنمول کی سربراہ ممتا بنرجی کو کچھ حد تک مصوری سکھائی تھی۔ ممتا کی بنائی ہوئی تصویروں کی نمائش کا اہتمام کرنے میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ ریلوے کمیٹی سے لے کر ریاستی ہیریٹیج کمیشن تک، ممتا نے شبھا پرسن کو کئی عہدوں سے نوازا تھا۔ انہیں ’بنگ وبھوشن‘ کا اعزاز بھی دیا گیا۔ شبھا پرسن نے بھی ممتا کی تخلیقی صلاحیتوں کو تسلیم کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ 2022 میں وزیر برتیا باسو کی سربراہی والی بنگلہ اکیڈمی کی جانب سے ممتا کو ادبی ایوارڈ دیے جانے پر شدید تنازع کھڑا ہوا تو شبھا پرسن نے ناقدین کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ تنازع کھڑا کرنے والے لوگ حسد میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے کہا تھا، ”اگر رابندر ناتھ ٹیگور زندہ ہوتے تو خود آکر ممتا کو اعزاز سے نوازتے۔“
لیکن گزشتہ مئی میں ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد سے ان کی جانب سے کوئی سیاسی بیان سننے کو نہیں ملا۔ اور اب بھی نہیں ملے گا۔ اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں جب ان کی اہلیہ شپرا سے فون پر رابطہ کرکے شبھا پرسن سے بات کرانے کی درخواست کی گئی تو انہوں نے کہا، ”حالات ایسے ہیں کہ وہ کوئی بات نہیں کریں گے۔ اسی لیے آپ کو ان سے فون پر رابطہ نہیں ہو پا رہا۔ وہ کچھ بھی کہنا نہیں چاہتے۔“
جاننے کی خواہش تھی کہ ممتا کے 15 سالہ دورِ حکومت اور نئی بی جے پی حکومت کے پانچ ماہ کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے۔ صرف ان ہی سے نہیں، بلکہ ممتا کے دورِ حکومت میں ان کے قریبی سمجھے جانے والے دیگر معروف فنکاروں سے بھی یہی سوال پوچھنے کا ارادہ تھا۔ لیکن شپرا نے واضح طور پر بتا دیا کہ شبھا پرسن کچھ بھی نہیں کہیں گے۔
یوگین چودھری ممتا کے خیمے کی ایک بڑی شخصیت تھے۔ مصور کی حیثیت سے پورے ملک میں ان کی شہرت ہے۔ ممتا نے انہیں راجیہ سبھا بھیجا تھا۔ ترنمول کانگریس کی 21 جولائی کی ریلی کے اسٹیج پر بھی وہ نظر آتے تھے۔ تاہم اقتدار کی تبدیلی کے بعد سے وہ بھی عوامی طور پر کہیں دکھائی نہیں دیے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران کئی کوششوں کے باوجود ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ ان کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ 88 برس کی عمر پار کر چکے یوگین بیمار ہیں اور گزشتہ کئی ماہ سے تقریباً کسی سے بھی رابطہ نہیں رکھ رہے ہیں۔

کبھی یہ لوگ ممتا کی تعریفوں کے پل باندھتے تھے، اب آس پاس بھی نظر نہیں آتے!...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn