Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

کولکاتا کارپوریشن میں وارڈوں کی ازسرنو حدبندی اور ریزرویشن میں بے ضابطگی کا الزام

Admin
By Admin
Oct 06, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

ARSALAN RESTAURANT KA BADA ELAN, FOOD SAFETY KE LIYE NAYE RULES LAGU

کولکاتا کارپوریشن میں وارڈوں کی ازسرنو حدبندی اور ریزرویشن میں بے ضابطگی کا الزام
کولکاتا کارپوریشن میں وارڈوں کی ازسرنو حدبندی اور ریزرویشن میں بے ضابطگی کا الزام — October 06, 2026
کولکاتا کارپوریشن میں وارڈوں کی ازسرنو حدبندی اور ریزرویشن میں بے ضابطگی کا الزام
کولکاتا میونسپل کارپوریشن (KMC) میں وارڈوں کی ازسرنو حدبندی اور خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے میں بھی قواعد کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتیں ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ تقریباً ایک ہی مو¿قف اور یکساں معلومات کو الگ الگ پیش کرتے ہوئے آئین کی مختلف دفعات کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہے۔ پردیش کانگریس، سی پی آئی ایم اور کالی گھاٹ ترنمول نے قانونی کارروائی کی تیاری تقریباً مکمل کر لی ہے۔
تینوں فریق پہلے ہی متعدد مرتبہ میونسپل کارپوریشن کی ایڈمنسٹریٹر اور کمشنر اسمتا پانڈے کو شکایات سے متعلق خطوط بھیج چکے ہیں۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ نئے وارڈوں کی حدبندی میں حدود کو لے کر کئی سنگین اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔ ’اسپاٹ وزٹ‘ کرنے اور شہریوں کی رائے جاننے کے لیے علاقوں میں جاکر عوامی سماعت کرانے کی تجویز بھی دی گئی، لیکن ایڈمنسٹریٹر نے اسے اہمیت نہیں دی۔
اپوزیشن کا مزید الزام ہے کہ خواتین کے لیے ریزرویشن کے سلسلے میں پارلیمنٹ سے منظور شدہ میونسپل قانون کے قواعد کی موجودہ کولکاتا میونسپل کارپوریشن اور ریاست کے شہری ترقیاتی محکمہ کی جانب سے پابندی نہیں کی جا رہی ہے۔
تاہم بائیں بازو اور کانگریس کی قیادت میونسپل کارپوریشن کی جانب سے حتمی فہرست کے اجرا کا انتظار کر رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب تک جاری کی گئی تمام فہرستوں کو میونسپل کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر اور متعلقہ افسران ’مسودہ‘ قرار دے رہے ہیں۔ بائیں بازو، کانگریس اور ممتا ترنمول کی قیادت نے بتایا ہے کہ حتمی فہرست کو سرکاری نوٹیفکیشن کی شکل میں جاری ہوتے ہی وہ ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کریں گے۔
ریاستی حکومت نے نومبر کے آخر میں، 28 یا 29 تاریخ کو، کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے 209 وارڈوں میں انتخابات کرانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اسی دوران حکمراں بی جے پی نے بھی انتخابی تیاریوں کے سلسلے میں کولکاتا شمال اور جنوب میں الگ الگ مختلف منڈل کمیٹیوں کے ساتھ میٹنگیں شروع کر دی ہیں۔ دونوں اضلاع کے صدر تموگھنا گھوش اور انوپم بھٹاچاریہ نے مختلف منڈلوں سے موصول ہونے والے پارٹی ٹکٹ کے خواہش مند امیدواروں کے ناموں کی فہرست مرکزی وزیر سکانت مجمدار کی قیادت والی انتخابی کمیٹی کے حوالے کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق، سبکدوش ہونے والے میونسپل بورڈ کے کئی عوامی نمائندے حکمراں جماعت کی جانب سے انتخابی میدان میں اترنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح بائیں بازو اور ممتا ترنمول نے بھی اسمبلی حلقہ وار امیدواروں کی فہرست کو لے کر میٹنگیں شروع کر دی ہیں۔ پیر کے روز بھی جنوبی کولکاتا کے راس بہاری میں رکن اسمبلی شوبھندیو چٹوپادھیائے کے دفتر میں ممتا ترنمول نے انتخابی تیاریوں کے سلسلے میں میٹنگ کی۔
بائیں بازو بھی پیچھے نہیں ہے۔ گیانیش کمار کے معاملے پر سڑکوں پر اترنے کے ساتھ ساتھ علیم الدین کی قیادت اس مرتبہ مختلف وارڈوں میں نوجوان نسل کو زیادہ سے زیادہ امیدوار بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ضمنی انتخابات کا مرحلہ ختم ہوتے ہی پردیش کانگریس صدر شوبھنکر سرکار کی قیادت میں کانگریس بھی پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اترنے والی ہے۔ لیکن اسی دوران بائیں بازو، کانگریس اور ممتا ترنمول، تینوں فریقوں نے وارڈوں کی ازسرنو حدبندی اور ریزرویشن کے معاملے میں عدالت سے رجوع کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ اس معاملے پر پارٹی کے وکلا نے مسودہ بھی تیار کر لیا ہے۔
کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے وارڈوں کی ازسرنو حدبندی اور ریزرویشن کے سلسلے میں پردیش کانگریس صدر شوبھنکر سرکار نے الزام لگایا، ”جس طرح ایس آئی آر کے ذریعے بی جے پی نے ریاست پر قبضہ کیا، اسی راستے پر انتظامیہ کو استعمال کرکے قواعد کو نظرانداز کرتے ہوئے اب زعفرانی خیمہ کارپوریشن پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔“
گزشتہ پانچ ماہ کے دوران کولکاتا میونسپل کارپوریشن کی خدمات کے بری طرح متاثر ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے پردیش کانگریس صدر نے کہا، ”ایک ہی وقت میں مردم شماری اور ڈِلیمٹیشن دونوں ہو رہے ہیں۔ پرانے 144 وارڈوں کو کس بنیاد پر تقسیم کیا جا رہا ہے، کوئی نہیں جانتا۔ خواتین کے ریزرویشن کے معاملے میں بھی یہی ہوا ہے، قواعد کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک ہی وارڈ کو مسلسل چار مرتبہ خواتین کے لیے مخصوص کیا جا رہا ہے۔“
ممتا ترنمول کے ریاستی جنرل سکریٹری اور سابق میئر کونسلر ویبشوانر چٹوپادھیائے نے الزام لگایا کہ ڈِلیمٹیشن کا مسودہ کس نے تیار کیا اور کن لوگوں نے تیار کیا، کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ انہوں نے کہا، ”آئین کے مطابق ہر کام کا ایک طریقہ کار ہے۔ سابق کونسلروں، اراکین اسمبلی اور تمام سیاسی جماعتوں سے ضابطے کے مطابق بات چیت کرنا ضروری ہے۔ لیکن میونسپل ایڈمنسٹریٹر کسی کی بات نہیں سن رہے ہیں۔“
سی پی ایم کے ضلعی سکریٹری کلّول مجمدار نے کہا، ”قواعد کے مطابق آبادی کے بجائے محض ووٹر لسٹ کو بنیادی بنیاد بنا کر جس طرح وارڈوں کی ازسرنو حدبندی کی جا رہی ہے، اس سے کولکاتا کی حقیقی آبادیاتی تصویر کسی بھی طرح واضح نہیں ہوگی۔“

کولکاتا کارپوریشن میں وارڈوں کی ازسرنو حدبندی اور ریزرویشن میں بے ضابطگی کا الزام...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn