International

امریکی محکمہ دفاع کی میزائلوں اور گولہ بارود کی پیداوار بڑھانےکےلیےتین معاہدوں کی منظوری

امریکی محکمہ دفاع کی میزائلوں اور گولہ بارود کی پیداوار بڑھانےکےلیےتین معاہدوں کی منظوری

امریکی وزارت جنگ پینٹاگان نے بدھ کے روز ’بی اے ای سسٹمز‘، لاک ہیڈ مارٹن اور ہنی ویل نامی کمپنیوں کے ساتھ میزائلوں اور گولہ بارود کی پیداوار میں اضافے کے لیے تین معاہدوں پر دستخط کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلانات امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے تین ہفتوں سے زائد وقت گذرنے کے بعد سامنے آئے ہیں۔ وزارت دفاع کی ویب سائٹ پر جاری بیان کے مطابق پینٹاگون نے بی اے ای سسٹمز اور لاک ہیڈ مارٹن کے تعاون سے تھاڈ (ٹرمینل ہائی الٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس) میزائل ڈیفنس سسٹم کے سیکرز کی تیاری چار گنا بڑھانے کے لیے ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس کے علاوہ ہنی ویل ایرواسپیس کے ساتھ ایک فریم ورک معاہدہ کیا گیا ہے تاکہ امریکی گولہ بارود کے ذخیرے کے اہم اجزاء بشمول نیویگیشن سسٹم، ہنی ویل ایشور ایکچیوٹرز اور الیکٹرانک وارفیئر سلوشنز کی پیداوار بڑھائی جا سکے۔ ضروری گولہ بارود کی طویل مدتی مستحکم طلب کو پورا کرنے کے لیے اس معاہدے کے تحت سنہ 2026ء اور آنے والے برسوں کے دوران 500 ملین ڈالر کی کثیر سالہ سرمایہ کاری کی جائے گی۔ وزارت دفاع نے لاک ہیڈ مارٹن کے ساتھ پریسیشن اسٹرائیک میزائلوں (PrSM) کی تیاری میں تیزی لانے کے لیے بھی ایک نئے فریم ورک معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت لاک ہیڈ مارٹن جدید ترین آلات، تنصیبات کی اپ گریڈیشن اور اہم ٹیسٹنگ آلات میں ٹارگٹڈ سرمایہ کاری کرے گی تاکہ پیداواری مدت کو کم سے کم کیا جا سکے۔ یہ فریم ورک معاہدہ سات سال تک کے کثیر سالہ معاہدے پر بات چیت کا موقع بھی فراہم کرتا ہے بشرطیکہ کانگریس مستقبل میں اس کی منظوری دے دے۔ جے پی مورگن چیس کے چیف ایگزیکٹو جیمی ڈیمن نے کہا ہے کہ ایک طرف امریکہ اور اسرائیل اور دوسری طرف ایران کے درمیان جاری حالیہ تنازع نے اس حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے کہ امریکہ کے پاس جنگ کے وقت ہتھیاروں کی پیداوار میں تیزی سے اضافے کی صنعتی صلاحیت کی کمی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے گذشتہ روز پینٹاگون کا دورہ کیا جہاں وہ خریداری کے قواعد، سیاسی پابندیوں، بجٹ کے جمود اور ریگولیٹری تعمیل کے بوجھ سے شدید مایوس ہوئے۔ ڈیمن نے مزید کہا کہ ظاہر ہے آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ فوج پر زیادہ رقم خرچ کی جائے گی جس کی ہمیں واقعی ضرورت ہے، ہم صرف ان کی سپلائی چین کی مدد کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments