واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی اختیارات کو وسعت دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صدر اب بیشتر آزاد وفاقی اداروں کے سربراہان کو بغیر کسی مخصوص وجہ کے عہدے سے ہٹا سکتے ہیں۔ تاہم، عدالت نے امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) کو اس فیصلے سے مستثنیٰ رکھا ہے۔ سپریم کورٹ نے 6-3 کی اکثریت سے 1935 کے تاریخی فیصلے کو مؤثر طور پر تبدیل کر دیا، جس کے تحت صدر کے اختیارات پر بعض پابندیاں عائد تھیں۔ موجودہ فیصلہ فیڈرل ٹریڈ کمیشن کی سابق رکن ربیکا سلاٹر کی برطرفی سے متعلق مقدمے میں سنایا گیا۔ فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے اسے صدارتی اختیارات کے لیے "تاریخی فتح” قرار دیا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ یہ امریکی صدارت کے اختیارات سے متعلق اہم ترین عدالتی فیصلوں میں سے ایک ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع