International

امریکی پابندی میں نرمی، عراق کو ڈالر کی منتقلی دوبارہ شروع

امریکی پابندی میں نرمی، عراق کو ڈالر کی منتقلی دوبارہ شروع

امریکا نے عراقی حکومت پر ایران سے فاصلہ اختیار کرنے کے لیے کئی ماہ قبل معطل کی گئی ڈالر کی نقد ترسیلات کا سلسلہ جزوی طور پر دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ عراقی وزیراعظم علی الزیدی کے دو معاونین کے مطابق امریکا نے کئی ماہ کی معطلی کے بعد عراق کو ڈالر کی بعض نقد کھیپوں کی فراہمی بحال کر دی ہے۔ یہ ترسیلات اس سے قبل بغداد پر دباؤ ڈالنے کے لیے روکی گئی تھیں تاکہ وہ ایران سے اپنے تعلقات اور مالی روابط محدود کرے۔ عراقی وزیراعظم علی الزیدی کے ترجمان حیدر العبودی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عراق کو ڈالر کی نقد ترسیلات دوبارہ شروع ہو گئی ہیں، اب ''یہ مسئلہ حل ہو چکا ہے'''۔ وزیراعظم کے مالی مشیر مظہر محمد صالح نے بھی ڈالر کی ترسیلات بحال ہونے کی تصدیق کی۔تاہم امریکی محکمہ خارجہ اور محکمہ خزانہ نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق دونوں اداروں نے اس حوالے سے خاموشی اختیار کی ہے۔ڈالر کی ترسیلات کی بحالی ایسے وقت میں ہوئی ہے ،جب وزیراعظم علی الزیدی نے ملک میں بدعنوانی کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم شروع کر رکھی ہے۔ عراقی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس مہم کے دوران موجودہ اور سابق سرکاری عہدیداروں، حتیٰ کہ پارلیمنٹ کے بعض ارکان کو بھی بدعنوانی کے الزامات پر گرفتار کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے گزشتہ اپریل میں عراق کو تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کے بدلے ڈالر کی فراہمی معطل کر دی تھی، حالانکہ عراقی معیشت بڑی حد تک نقد لین دین پر انحصار کرتی ہے۔ اس وقت عراقی حکام نے یہ بھی بتایا تھا کہ واشنگٹن نے عراقی سکیورٹی اداروں کے لیے تعاون اور مالی معاونت بھی عارضی طور پر روک دی تھی۔ اس وقت عراقی کردستان کے ایک عہدیدار نے بتایا تھا کہ ڈالر کی ترسیلات معطل کرنے کا ایک اہم مقصد ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے ذریعے امریکی کرنسی کی مبینہ اسمگلنگ پر قابو پانا تھا۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا جب عراق میں نئے وزیراعظم کے انتخاب کا عمل جاری تھا اور امریکا ان امیدواروں کو اقتدار میں آنے سے روکنے کی کوشش کر رہا تھا، جنہیں تہران کا قریبی حامی سمجھا جاتا تھا۔ واشنگٹن عراقی حکومت پر یہ دباؤ بھی ڈال رہا تھا کہ وہ ایران سے وابستہ ان ملیشیاؤں کی سرگرمیوں کو محدود کرے ،جو بڑی حد تک ریاستی کنٹرول سے باہر کام کرتی ہیں اور وقتاً فوقتاً عراق میں امریکی اہداف پر حملے بھی کرتی رہی ہیں۔ چند سال قبل بغداد پر بین الاقوامی بینکاری کے نئے ضوابط بھی نافذ کیے گئے تھے، جن کے تحت نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک میں عراق کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر سے متعلق ڈالر کی مالی منتقلی کے لیے زیادہ شفافیت کو لازمی قرار دیا گیا۔ ان اقدامات کا مقصد مجرمانہ عناصر، منی لانڈرنگ نیٹ ورکس اور پڑوسی ممالک میں مسلح گروہوں کی حمایت کرنے والے فریقوں، بشمول ایران، تک ڈالر کی غیر قانونی رسائی کو روکنا تھا۔ عراقی مرکزی بینک روزانہ کی بنیاد پر نیویارک کے فیڈرل ریزرو میں موجود اپنے اکاؤنٹ سے عراقی کمپنیوں اور افراد کے لیے مالی رقوم کی منتقلی میں سہولت فراہم کرتا ہے، تاکہ بیرونِ ملک سے درآمد کی جانے والی اشیا کی ادائیگی کی جا سکے۔ یہ مالی ترسیلات اس لیے بھی انتہائی اہم سمجھی جاتی ہیں کیونکہ عراق میں بہت کم کمپنیوں کے پاس بین الاقوامی بینکوں میں براہِ راست اکاؤنٹس موجود ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments