International

امریکی نائب صدر کے بیان پر نیتن یاہو برہم؛ ہندستان کا حوالہ دے کر جے ڈی وینس کو کھری کھری سنا دیں

امریکی نائب صدر کے بیان پر نیتن یاہو برہم؛ ہندستان کا حوالہ دے کر جے ڈی وینس کو کھری کھری سنا دیں

یروشلم / واشنگٹن: اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ایک حالیہ بیان پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے علاوہ بھی دنیا میں اسرائیل کے مضبوط اتحادی موجود ہیں۔ نیتن یاہو نے خاص طور پر ہندستان کا ذکر کرتے ہوئے امریکی قیادت کو آئینہ دکھایا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کو نئی دہلی کی جانب سے زبردست حمایت حاصل ہے۔ امریکی نیوز چینل 'فاکس نیوز' کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں بنجمن نیتن یاہو نے جے ڈی وینس کے بیان کا جواب دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا: "امریکہ کے علاوہ ہمارے کچھ اور دوست بھی ہیں، جیسے کہ ایک ملک ہے جسے ہندستان کہا جاتا ہے۔ اس کی آبادی 1.4 بلین (ایک ارب 40 کروڑ) ہے، اور ہمیں وہاں سے زبردست اور تاریخی حمایت حاصل ہے۔" غزہ، ایران اور لبنان کے ساتھ جاری جنگوں کی وجہ سے عالمی سطح پر تنقید کا سامنا کرنے والے اسرائیلی رہنما نے مزید کہا کہ وہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا احترام کرتے ہیں اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کا سب سے بڑا دوست سمجھتے ہیں، "لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں جے ڈی وینس کی ہر بات سے اتفاق کروں، مجھے یہ بات واضح کرنی ہوگی۔" امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں یہ تلخی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس بیان کے بعد آئی جس میں انہوں نے اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنے واحد طاقتور دوست (امریکہ) کے ساتھ تعلقات خراب نہ کرے۔ وینس نے وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا: "اگر میں اسرائیلی کابینہ کا حصہ ہوتا، تو میں دنیا میں اپنے واحد طاقتور اتحادی (امریکہ) پر کبھی تنقید یا حملہ نہ کرتا۔" اس پر نیتن یاہو نے جوابی وار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک پر ہندوستان سے کروڑوں لوگوں کی حمایت مل رہی ہے، اس لیے یہ کہنا غلط ہے کہ اسرائیل دنیا میں اکیلا ہے۔ کسی ملک کا نام لیے بغیر نیتن یاہو نے انکشاف کیا کہ آج کل سوشل میڈیا پر "اسرائیل مخالف اور یہود مخالف مواد" پوسٹ کرنا بہت سے ممالک میں ایک فیشن بن چکا ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا "جو ممالک عوامی سطح پر ہماری مخالفت کرتے ہیں، ان کے رہنما مجھے نجی طور پر فون کرتے ہیں، تجارتی معاہدوں پر دستخط کرنے کی درخواستیں کرتے ہیں اور ہماری فوج کی جنگی حکمتِ عملی سے سیکھنے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔ اس لیے عالمی سیاست کا یہ رخ اتنا حقیقی نہیں جتنا دکھائی دیتا ہے، ہمارے دوستوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔"

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments