امریکی وفاقی جج نے فلسطینیوں کے حامی مسلم رہنما صلاح سرسور کی رہائی کا حکم دے دیا جنہیں امیگریشن حکام نے تقریباً 80 دن قبل حراست میں لیا تھا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جج جیمز پیٹرک ہینلن نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ صلاح سرسور نے یہ مضبوط مؤقف پیش کیا کہ انہیں فلسطین کی حمایت میں اظہارِ رائے کے باعث نشانہ بنایا گیا جو امریکی آئین کے تحت محفوظ حق ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ خارجہ پالیسی کے نام پر آزادیٔ اظہار کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔ واضح رہے کہ 53 سالہ صلاح سرسور گزشتہ 32 برس سے امریکا کے قانونی مستقل رہائشی ہیں اور ریاست وسکونسن کی سب سے بڑی مسجد کے صدر ہیں۔ امیگریشن حکام نے مارچ میں انہیں حراست میں لیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے اپنی رہائشی درخواست میں بعض معلومات ظاہر نہیں کیں۔ عدالت کے حکم کے بعد صلاح سرسور کو رہا کر دیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق آئی سی ای سے رہائی کے بعد صلاح سرسور نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عدالت کا یہ فیصلہ آزادیٔ اظہارِ رائے کی فتح ہے اور میں فلسطین اور انسانی حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہوں گا۔ دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے فلسطین کے حامیوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے ایک اہم عدالتی پیغام قرار دیا ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع