International

امریکی فوج نے جنوبی ایران پر فضائی حملہ کر دیا، سینٹکام کی تصدیق

امریکی فوج نے جنوبی ایران پر فضائی حملہ کر دیا، سینٹکام کی تصدیق

واشنگٹن (26 مئی ): امریکی فوج نے جنوبی ایران پر فضائی حملہ کر دیا ہے، ترجمان سینٹ کام نے حملے کی تصدیق کر دی۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدہ جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کے دوران پیر کی شب خلیجِ فارس کے قریب ایرانی شہر بندر عباس اور آبنائے ہرمز کے اطراف بمباری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس نے خطے میں ایک بار پھر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ترجمان سینٹکام نے بتایا کہ انھوں نے ایرانی میزائل لانچنگ سائٹس اور مائنز بچھانے والی کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے، یہ حملے سیلف ڈیفنس میں کیے گئے، جو امریکی فوجیوں کو ایرانی خطرات سے بچانے کے لیے تھے۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ جنگ بندی کے دوران تحمل کے ساتھ دفاع کر رہی ہے۔ ادھر ایرانی میڈیا نے بھی بندر عباس پر 3 حملوں کی تصدیق کر دی ہے، میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کے بعد صوبہ ہرمزگان کا فضائی دفاعی سسٹم فعال کر دیا گیا ہے، اور خلیج عمان میں امریکی جنگی بحری جہازوں پر میزائل داغے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے کہا کہ بندر عباس میں صورت حال قابو میں ہے اور شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کے باوجود تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔ ایجنسی کے مطابق سرکاری ذرائع نے ابھی تک اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق بندر عباس میں تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جب کہ فارس نیوز ایجنسی نے بتایا کہ اسی نوعیت کی آوازیں اہم آبی گزرگاہ کے قریب واقع سیرک اور جاسک کے علاقوں میں بھی سنائی دیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹِم ہاکنز نے ایک بیان میں کہا ’’امریکی افواج نے آج جنوبی ایران میں اپنے فوجیوں کو ایرانی افواج کی جانب سے لاحق خطرات سے بچانے کے لیے دفاعی حملے کیے۔ اہداف میں میزائل لانچ کرنے کی تنصیبات اور ایرانی کشتیاں شامل تھیں جو بارودی سرنگیں نصب کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ جاری جنگ بندی کے دوران امریکی سینٹرل کمانڈ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی افواج کا دفاع جاری رکھے ہوئے ہے۔‘‘ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان حملوں میں کتنے افراد ہلاک ہوئے یا ایران کے کتنے میزائل لانچر تباہ کیے گئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ نہیں بتایا کہ حملوں کی وجہ بننے والے خطرات کیا تھے یا یہ حملے طیاروں کے ذریعے کیے گئے یا بحری جہازوں کے ذریعے۔ امریکا اور ایران دونوں آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہیں، اور دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان اس دوران کئی بار کشیدگی اور آمنا سامنا ہو چکا ہے۔ امریکا آبنائے کے اطراف ایرانی ڈرون مار گرا چکا ہے اور درجنوں جہازوں کو روک چکا ہے، جن میں بعض کو طاقت کے ذریعے قبضے میں بھی لیا گیا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments