International

امریکی فوج کا ایران پر تیسرے مرحلے کی فضائی کارروائیوں کے اختتام کا اعلان

امریکی فوج کا ایران پر تیسرے مرحلے کی فضائی کارروائیوں کے اختتام کا اعلان

امریکی فوج نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ ایران کو نشانہ بنانے والی فوجی کارروائیوں کا تیسرا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ فوج کے مطابق گزشتہ دنوں اس کی افواج نے ایران کے اندر موجود اہداف کے خلاف فضائی اور بحری کارروائیوں میں سے ایک وسیع ترین آپریشن انجام دیا، جس میں 300 سے زائد فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں کی گئیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک بیان میں کہا کہ حملوں کے تیسرے دور کا اختتام تقریباً 140 ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے بعد ہوا۔ ان حملوں میں زمینی اور بحری اڈوں سے اڑان بھرنے والے لڑاکا طیاروں کے علاوہ ڈرون طیاروں اور جنگی بحری جہازوں سے بھی جدید اور ہدفی نوعیت کا اسلحہ استعمال کیا گیا۔ سینٹکام کے مطابق جن اہداف کو نشانہ بنایا گیا ان میں میزائل اور ڈرون لانچ کرنے کے مقامات، بحری تنصیبات، اسلحہ کے گودام، فوجی ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورکس اور ایرانی ساحلی علاقوں میں نگرانی اور رصد کے مراکز شامل تھے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس آپریشن کا مقصد ان ایرانی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا تھا جو بین الاقوامی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق امریکی افواج نے مسلسل تین راتوں کے دوران ایران کے اندر 300 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی براہِ راست ہدایت پر کی گئیں۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ فوجی کارروائیاں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تجارتی جہاز رانی پر حملوں کی ذمہ داری ایران پر عائد کرنے کے لیے کی گئیں۔ اس کا بنیادی مقصد تہران کی اس صلاحیت کو محدود کرنا تھا کہ وہ شہری بحری عملے اور دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک استعمال کرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا سکے۔ سینٹکام کے مطابق حالیہ کارروائی اُس واقعے کے بعد کی گئی جب آبنائے ہرمز میں قبرص کے جھنڈے والی ایک کنٹینر بردار جہاز پر حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی، انجن روم کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ عملے کا ایک رکن لاپتا ہو گیا۔ فوجی کشیدگی میں اضافے کے باوجود امریکی فوج نے زور دے کر کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق اس کی افواج اس اہم سمندری گزرگاہ میں جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ مئی کے آغاز سے اب تک امریکی افواج نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 800 سے زائد تجارتی جہازوں کی محفوظ راہداری میں مدد فراہم کی ہے۔ اس کے علاوہ 400 ملین بیرل سے زائد خام تیل بھی اس راستے سے منتقل ہوا، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ فوجی تناؤ کے باوجود توانائی کی برآمدات کا بہاؤ برقرار ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین اسٹریٹجک گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، کیونکہ عالمی تیل تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اسی وجہ سے اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments