International

امریکہ میں ’شہاب ثاقب پھٹنے سے‘ دھماکوں کی شدید آوازیں، خوف و ہراس پھیل گیا

امریکہ میں ’شہاب ثاقب پھٹنے سے‘ دھماکوں کی شدید آوازیں، خوف و ہراس پھیل گیا

زمین کی طرف آنے والا ایک شہاب ثاقب امریکہ کے شمال مشرقی علاقے کے اوپر فضا میں پھٹ گیا جس سے پیدا ہونے والی دھماکوں کی آوازیں دور دراز تک سنائی دیں۔ خبر رساں اداروں اے ایف پی اور اے پی کے مطابق یہ واقعہ سنیچر کی رات کو پیش آیا اور امریکی خلائی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے تین سو ٹن ٹی این این ٹی کے برابر تھے۔ ناسا کے ترجمان کے مطابق یہ شہاب ثاقب قریباً 75 ہزار میل (ایک لاکھ 20 ہزار 700 کلومیٹر) فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا تھا اور اندازاً زمین سے 40 میل (60 کلومیٹر) کی بلندری پر ٹکڑوں میں بکھر گیا۔ ’اس کے ٹوٹنے سے خارج ہونے والی توانائی تقریباً 300 ٹی این ٹی کے برابر تھی اور دھماکوں کی آوازیں بھی اسی وجہ سے پیدا ہوئیں۔‘ ناسا کے ڈپٹی نیوز چیف کے مطابق یہ فائر بال ہیمشائر کے شمال مشرقی حصے اور میساچوسٹس کے اوپر دوپہر دو بج کر چھ منٹ پر ٹکڑوں میں بکھرا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فائر بال (آتشیں گولا) کسی فعال میٹیور شاور کا حصہ نہیں تھا، یہ ایک قدرتی چیز تھی اور یہ کوئی خلائی ملبہ تھا اور نہ ہی کوئی سیارہ تھا۔ جس علاقے کے اوپر شہاب ثاقب پھٹا وہاں کے باسیوں کا کہنا ہے کہ انہیں شدید دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جس سے وہ سخت خوفزدہ ہوئے۔ سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے لکھا کہ دھماکے اس قدر شدید تھے کہ گھروں لرزتے محسوس ہوئے۔ واقعے کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں نے پولیس کو مطلع بھی کیا، جس کے بعد پولیس اور ایجنسیز کے اہلکاروں کو علاقے میں بھیجا گیا تاکہ صورت حال کا پتہ چلایا جا سکے کہ دھماکوں کی وجہ کیا ہے۔ امریکی میٹیور سوسائٹی کا کہنا ہے کہ لوگوں نے جو دھماکے سنے وہ دراصل تقریباً تین فٹ چوڑے شہاب ثاقب ہیمشائر کی فضا میں داخل ہونے کی وجہ سے ہوئے اور ان کی آواز میساچوسٹس تک بھی گئی۔ ناسا کے حکام کے تصدیق کی ہے کہ واقعہ کُلی طور پر قدرتی نوعیت کا تھا اور کسی سیارے کا حصہ کا خلائی ملبہ نہیں تھا۔ امریکی میٹیور سوسائٹی کے پروگرام مانیٹر رابرٹ لنزفورڈ کا کہنا ہے کہ ڈیلویئر اور مونٹریال کے علاقوں میں رہنے والوں کی جانب سے بھی دھماکے سننے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں اور لوگوں نے دھماکوں کے بعد انہوں نے دن کے وقت آسمان پر ایک روشن ستارے کو ٹوٹتے ہوئے دیکھا۔ ان کے مطابق ’یہ عام فائر بال سے کافی بڑا تھا تقریباً ایک گز چوڑا تھا۔‘ لیزفورڈ کا کہنا تھا کہ اس امکان کا نہیں ہے کہ یہ شہاب ثاقب زمین سے ٹکرایا ہو۔ ’اس کی رفتار اور یہ جاننے کے لیے کہ آیا یہ زمین سے ٹکرایا، ہمیں مزید معلومات درکار ہوں گی، اگر یہ مکمل طور پر نہیں جلا تو یہ سمندر میں گر گیا ہو گا، زیادہ تر شہاب ثاقب زمین تک پہنچنے سے قبل ہی جل جاتے ہیں۔‘ کئی ریاستوں کے رہائشیوں نے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بتایا اور بعض نے ویڈیوز بھی شیئر کیں، ان کا کہنا تھا کہ وہ جہاں موجود تھے انہیں وہاں لرزش محسوس ہوئی اور دو تیز دھماکے ہوئے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments