International

امریکہ مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ ہے، ہم چین کی مدد لینے کے لیے بھی تیار ہیں: ایرانی وزیر خارجہ

امریکہ مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ ہے، ہم چین کی مدد لینے کے لیے بھی تیار ہیں: ایرانی وزیر خارجہ

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کے روز کہا کہ انہیں امریکہ کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ مذاکرات جاری رکھنے پر تیار ہے، اور وہ چین سمیت کسی بھی ملک کی مدد کا خیرمقدم کریں گے۔ عرب نیوز کے مطابق عراقچی نے انڈیا کے دارالحکومت نئی دلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں ایک بار پھر امریکیوں کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے ہیں کہ وہ مذاکرات اور رابطے جاری رکھنے کے خواہش مند ہیں۔‘ عراقچی نے یہ بیان امریکی صدر کے اس بیان کے ایک روز بعد دیا جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ چینی صدار شی جن پنگ نے چین کی جانب سے آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد کی پیشکش کی ہے، اور یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ چین ایران کی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں مدد کے لیے فوجی سازوسامان فراہم نہیں کرے گا۔ نئی دلی میں برکس ممالک کے اجلاس میں شرکت کے بعد گفتگو کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ ’ہم ہر اُس ملک کی کوشش کو سراہتے ہیں جو مدد کی صلاحیت رکھتا ہو، خصوصاً چین۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’چین کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں، ہم ایک دوسرے کے سٹریٹجک شراکت دار ہیں، اور ہمیں معلوم ہے کہ چینی قیادت کے ارادے مثبت ہیں، لہٰذا سفارت کاری میں مدد کے لیے ان کی جانب سے کی جانے والی ہر کوشش اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے قابلِ قبول ہوگی۔‘ اب تک پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان اہم ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ عراقچی نے کہا کہ ’پاکستان کی ثالثی کی کوششیں ابھی ناکام نہیں ہوئی ہیں، لیکن یہ ایک انتہائی مشکل مرحلے سے گزر رہی ہیں، جس کی بڑی وجہ امریکی رویہ اور ہمارے درمیان موجود عدم اعتماد ہے۔‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز چین کے دو روزہ سرکاری دورے کے بعد امریکہ واپسی کے دوران کہا کہ ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ اس بات پر ’سخت مؤقف‘ رکھتے ہیں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہییں۔ ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’صدر شی سمجھتے ہیں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہییں، اور وہ چاہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھولی جائے۔‘ صدر ٹرمپ نے دو روز اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ مذاکرات میں گزارے۔ ان مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے پر بات ہوئی، تاہم ایران ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے اور مؤقف اختیار کرتا ہے کہ اس کے جوہری عزائم صرف پُرامن مقاصد کے لیے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’ہمیں ایران کے جوہری ‘غبار’ کو ختم کرنا ہوگا۔‘ ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’بی-2 بمبار طیاروں نے ایران کے یورینیم ذخیرے کو خاک میں ملا دیا۔‘ امریکی امن تجویز پر ایران کے ردعمل کو مسترد کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہم صرف دو دن میں ایران کے بجلی گھروں کو تباہ کرسکتے ہیں۔ مجھے ایرانی جواب کا پہلا جملہ پسند نہیں آیا، اس لیے میں نے اسے مسترد کر دیا۔‘ انہوں نے ان دعوؤں کو بھی غلط قرار دیا کہ ایران نے اپنی 80 فیصد میزائل صلاحیت برقرار رکھی ہے، اور کہ ’نیویارک ٹائمز کی ایران کی باقی صلاحیتوں سے متعلق رپورٹ ‘سنگین غداری’ ہے۔‘ ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران کے 80 فیصد سے زائد میزائل ذخائر ختم ہو چکے ہیں۔ ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔‘

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments