International

امریکہ، ایران مذاکرات اتوار کو سوئٹزر لینڈ میں

امریکہ، ایران مذاکرات اتوار کو سوئٹزر لینڈ میں

ایران نے ہفتے کے روز امریکہ کے ساتھ عارضی معاہدے کو دو دھچکے دیے۔ لبنان میں اسرائیل کے مسلسل حملوں پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایران نے اعلان کیا کہ اس نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز بند کر دی ہے، جبکہ یہ بھی کہا ہے کہ اس کے مذاکرات کار اگرچہ سوئٹزرلینڈ جا رہے ہیں، لیکن وہاں زیادہ پیش رفت کا امکان نہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سب سے پہلے ایران کی مشترکہ عسکری کمان نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز بند کر دی گئی ہے۔ بیان میں اسرائیلی حملوں اور امریکہ کی ’بد نیتی‘ اور ’واضح طور پر معاہدے کی خلاف ورزی‘ کو اس فیصلے کی وجہ قرار دیا گیا۔ سرکاری ٹی وی پر جاری بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر جارحیت جاری رہی تو مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ اس کے کچھ دیر بعد سرکاری نشریاتی ادارے نے اعلان کیا کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم ’کچھ ہی دیر میں‘ سوئٹزرلینڈ روانہ ہو رہی ہے، یہ وہ دورہ ہے جو اصل میں جمعہ کو ہونا تھا۔ ایرانی میڈیا رپورٹ کر رہا ہے کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں سوئٹزر لینڈ کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔ بی بی سی فارسی نے نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری علی باقری کنی بھی ایرانی وفد میں شامل ہیں۔ نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی اور وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی بھی وفد میں شامل ہیں۔ امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایلچی سٹیو وٹکوف ایران کے ساتھ طے شدہ مذاکرات سے پہلے ہی سوئٹزرلینڈ میں موجود تھے۔ وینس کا کہنا تھا کہ دونوں افراد ان مذاکرات کے کچھ تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ نائب صدر کا کہنا تھا کہ اُن کی آج صبح جیرڈ کشنر اور وٹکوف سے بات ہوئی ہے اور ’میری سمجھ کے مطابق چیزیں ٹھیک چل رہی ہیں۔‘

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments