International

امریکہ اور ایران کا جنگ ختم کرنے کے لیے ’بریک تھرو‘ کے قریب پہنچنے کا اشارہ

امریکہ اور ایران کا جنگ ختم کرنے کے لیے ’بریک تھرو‘ کے قریب پہنچنے کا اشارہ

امریکہ اور ایران کے اعلیٰ حکام نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ دونوں ممالک مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے کے مسودے (ڈرافٹ ڈیل) تک پہنچنے کے قریب ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان ابھی بھی کچھ اختلافات موجود ہیں، تاہم جوہری پروگرام سے متعلق تنازع ابتدائی مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگا۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے امید ظاہر کی ہے کہ جلد مثبت پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بیان اس وقت دیا جب پاکستان کے آرمی چیف، جو امریکہ اور ایران کے درمیان اہم ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں، تہران کا دو روزہ مذاکرات کے بعد واپس روانہ ہوئے۔ مارکو روبیو نے نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’امکان ہے کہ آج، کل یا آنے والے چند دنوں میں ہمارے پاس کچھ کہنے کو ہو۔ میں امید کرتا ہوں کہ جلد اچھی خبر دے سکوں گا۔‘ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا ہے کہ ڈرافٹ معاہدہ کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں۔ انہوں نے سرکاری ٹی وی پر کہا کہ ’ہمارا مقصد پہلے ایک مفاہمتی یادداشت یا فریم ورک معاہدہ تیار کرنا تھا، جو 14 شقوں پر مشتمل ہے۔‘ انہوں نے مذاکرات میں مفاہمت کے قریب پہنچنے کا ذکر ضرور کیا، تاہم کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام اہم معاملات پر فوری اتفاق ہو جائے گا۔ ’معقول مدت یعنی 30 سے 60 دن کے اندر ان نکات کی تفصیلات پر بات چیت کی جائے گی اور بالآخر ایک حتمی معاہدہ طے پا جائے گا۔ اس وقت ہم مفاہمتی یادداشتوں کو حتمی شکل دینے کے عمل میں ہیں۔‘ پاکستانی فوج نے بھی ہفتے کے روز کہا کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تہران دورہ ثالثی کی کوششوں میں ’نمایاں طور پر معاون‘ ثابت ہوا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے ’مختصر مگر انتہائی مفید‘ دورہ مکمل کیا جس کے دورن وہ یران کے صدر مسعود پزشکیان، سپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقاتیں کیں۔ فوج کے بیان میں کہا گیا کہ ملاقاتوں کا مقصد خطے میں امن و استحکام کے لیے مشاورتی عمل کو آگے بڑھانا تھا، اور گزشتہ 24 گھنٹوں کی بات چیت میں ’حوصلہ افزا پیش رفت‘ ہوئی ہے۔ قبل ازیں ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ جنگ شروع کی تو اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے دوران ایرانی افواج اپنی صلاحیتیں دوبارہ منظم کر چکی ہیں اور کسی بھی ’حماقت‘ کا جواب پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments