International

امن معاہدے پر امریکہ اور ایران نے الیکٹرانک طور پر دستخط کر دیے

امن معاہدے پر امریکہ اور ایران نے الیکٹرانک طور پر دستخط کر دیے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ ایران کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں اور اس معاہدے کا متن باضابطہ دستخط کے بعد جمعہ کے روز جاری کیا جائے گا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز بھی مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کے ساتھ جی-7 اجلاس سے قبل بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ وہ جمعہ کی تقریب میں شرکت کریں گے یا نہیں، تاہم امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وہاں موجود ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ ’معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، اور آپ جانتے ہیں کہ آبنائے ہرمز پہلے ہی جزوی طور پر کھولی جا چکی ہے۔ جمعہ تک یہ مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔‘ جے ڈی وینس نے اس سے پہلے پیر کے روز کہا تھا کہ معاہدے پر اتوار کو ڈیجیٹل طور پر دستخط ہو چکے ہیں اور اس کے بدلے کوئی فنڈز جاری نہیں کیے گئے۔ جب معاہدے کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے کے بارے میں پوچھا گیا تو ٹرمپ نے کہا کہ ’شاید جلد ہی… میں کہوں گا جمعہ کے بعد کسی وقت، بہت ہی قریب مستقبل میں۔‘ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے لیے کسی بھی قسم کی پابندیوں میں نرمی ’رویے سے مشروط‘ ہوگی۔ ان کے مطابق اگر ایران مطلوبہ اقدامات کرتا ہے تو پابندیاں نرم کی جائیں گی۔ اس سے قبل جے ڈی وینس نے اے بی سی کے پروگرام ’گڈ مارننگ امریکہ‘ میں کہا تھا کہ معاہدے کے بدلے ایران کو کوئی رقم جاری نہیں کی جائے گی اور منجمد اثاثے بھی نہیں کھولے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’ابھی تک کوئی رقم جاری نہیں کی گئی، اور یہ صورتحال تبدیل نہیں ہوگی۔‘ جے ڈی وینس کے مطابق ایران کو صرف اسی صورت میں مالی فوائد ملیں گے جب وہ اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کرنے کے قابل تصدیق اقدامات کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر ہم دیکھیں کہ ایران اپنے افزودہ مواد کو ختم کرنے کے اقدامات کر رہا ہے اور ایسا نظامِ نگرانی قائم کرنے دے رہا ہے جس سے یہ یقینی ہو کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا، تو پابندیوں میں نرمی کی جائے گی۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران تعاون نہیں کرتا تو اسے دوبارہ اپنے جوہری پروگرام کی بحالی کے لیے مالی وسائل نہیں مل سکیں گے۔ وینس نے سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ توقع کرتا ہے کہ اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز طویل مدت کے لیے بغیر کسی ٹول کے کھلی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تفصیلات تکنیکی مذاکرات میں طے کی جائیں گی۔ امریکہ اور ایران نے کہا ہے کہ انہوں نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے پر اتفاق کیا ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں کچھ ریلیف آیا ہے۔ تاہم یہ معاہدہ لبنان میں کشیدگی کے خاتمے اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مزید مذاکرات پر منحصر ہو سکتا ہے۔ یہ معاہدہ، اگرچہ ابھی ابتدائی فریم ورک کی صورت میں ہے، اس تنازع کے حل کی جانب سب سے بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جس نے ہزاروں جانیں لی ہیں اور توانائی کی منڈیوں کو متاثر کیا ہے۔ وینس نے سی این بی سی کو بتایا کہ ایران کے وزیر خارجہ اور پارلیمنٹ کے سپیکر جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں دستخطی تقریب میں شرکت کریں گے، جبکہ معاہدے کی کئی تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments