رملہ سے تعلق رکھنے والے فلسطین کے ایک خاندان نے وہ واقعات بیان کیے ہیں کہ کس طرح مغربی کنارے کے اسرائیلی آباد کاروں نے ان کو حال ہی میں دفن کیے گئے ایک بزرگ رشتہ دار کو قبر سے نکالنے پر مجبور کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ قبر ایک ایسی بستی کے قریب ہے جس کی حال ہی میں اسرائیلی حکومت نے منظوری دی تھی۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق محمد عساسہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے 80 سالہ والد جن کا نام حسین تھا، کی وفات کے بعد خاندان والوں کے ہمراہ اسرائیلی حکام سے بات کی تھی اور اجازت کے بعد گاؤں کے قبرستان تدفین کی گئی، جہاں پہلے بھی میتوں کو دفن کیا جاتا رہا ہے۔ پچھلے جمعے کو ہونے والا یہ واقعہ اسرائیل کی موجودہ حکومت کے چار برس کے دوران بننے والی بستیوں کے انتہا پسند آباد کاروں کے اثر و رسوخ کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے آباد کاروں کی جانب سے فلسینیوں پر تشدد اور زمینوں پر قبضے کو روکنے میں فوج کی نااہلی یا عدم دلچسپی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ عساسہ کا کہنا تھا کہ جنازے کے بعد جنازے کے کچھ دیر بعد قریبی بستی سانور سے کچھ مسلح لوگ آئے اور گھر والوں کو کہا کہ میت کو وہاں سے نکالنے کا کہا اور دعویٰ کیا کہ وہ مقام بستی سے نصف کلومیٹر سے کم فاصلے پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے جانے کے بعد ہم جب گھر پہنچے تو کچھ نوجوانوں نے آ کر اطلاع دی کہ آباد کار قبر کو کھود رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’جب ہم قبرستان پہنچے تو وہاں بڑی تعداد میں آباد کار موجود تھے اور اردگرد فوج بھی موجود تھی۔‘ انہوں نے کہا کہ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے گاؤں والوں نے کہا کہ ہم خود ہی میت کو نکال لیتے ہیں کیونکہ آباد کاروں نے بلڈوزر کے ذریعے قبر کھودنے کی دھمکی دی تھی۔ اس واقعے کی ویڈیو میں فوج کی نگرانی میں لوگ ایک میت کو اٹھا کر لے جا رہے ہیں جبکہ کچھ اوپر پہاڑی پر کچھ لوگ دکھائی دیتے ہیں جو بظاہر آباد کار لگتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا کبھی پہلے نہیں ہوا، مگر ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔‘ دوسری جانب اسرائیلی فوج کا واقعے کے حوالے سے کہنا ہے کہ قبرستان کے قریب جھڑپوں کی اطلاعات ملنے پر کارروائی کی اور آباد کاروں کی جانب سے لائے گئے کھدائی کے اوزار قبضے میں لیے گئے۔ بیان کے مطابق خاندان کو میت لے جانے پر مجبور نہیں کیا گیا بلکہ جب وہ اسے دوسرے قبرستان میں منتقل کر رہے تھے تو ان کو تحفظ فراہم کیا گیا۔ فوج کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا اس واقعے کے وقت کسی کو گرفتار کیا گیا۔ اسرائیل نے 2005 میں سانور کو خالی کر دیا تھا تاہم اس انخلا کے مخالف آباد کار وہاں چیک پوسٹ بنانے کی کوشش کرتے رہے، اسرائیلی حکومت نے 2025 میں اس کی منظوری دی اور اس کی افتتاحی تقریب میں کئی وزرا شریک ہوئے۔ فلسطینیوں اور بین الاقوامی برادری کی اکثریت مغربی کنارے میں تمام اسرائیلی بستیوں کو غیرقانونی اور امن کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے تاہم اسرائیل اس موقف سے اختلاف کرتا ہے۔ عساسہ کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے ان کو مستقبل میں ہونے والے تدفینوں کے حوالے سے پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ ’کیا اب ہم اردگر کے دیہات میں جا کر لوگوں سے تدفین کے لیے جگہ مانگیں گے۔‘
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی