افغانستان میں طالبان کی حکومت نے ایک سال سے زیادہ عرصے سے زیر حراست لیے گئے امریکی شہریوں کو رہا کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ طالبان حکومت کی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی انگلش زبان کے ماہر اور محقق ڈینس کائل کے خاندان نے تحریری طور پر طالبان امیر ملا ہیبت اللہ سے اپیل کی تھی کہ انہیں عید پر رہا کر دیا جائے۔ اس پر طالبان کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دے دیا کہ امریکی قیدی کی قید اس کے جرم کے مطابق مکمل ہو چکی ہے۔ اس لیے رہائی میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ یہ بات وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہی گئی ہے۔ خیال رہے طالبان کی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی اور امریکہ کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے زلمےخلیل زاد کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقات کے بعد کیا ہے۔ ملاقات میں متحدہ عرب امارات کے کابل میں سفیر سیف محمد الکتیبی کے علاوہ امریکی قیدی کے خاندان کا ایک رکن بھی موجود تھا۔ بتایا گیا ہے کہ اس اہم ملاقات کے بعد قیدی کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ کابل میں ملا دیا گیا ہے۔ 64 سالہ کائل کو جنوری 2025 میں حراست میں لیا گیا تھا۔ قیدی کے اہل خانہ کی ایک ویب سائٹ جو کہ اس کیرہائی کے لیے بنائی گئی تھی پر کہا گیا ہے کہ یہ امریکی افغان کمیونٹی کی تعلیمی تحقیق میں مدد کے لیے گیا تھا۔ قیدی کو طالبان نے قید تنہائی کے ماحول میں رکھا تھا۔ اسے واش روم جانے کی اجازت لینا پڑتی تھی اور اسے علاج کی سہولیات بھی میسر نہ تھیں۔ یہ امریکی شہری پہلی بار 2000 میں کابل آیا تھا۔ تب سے افغانیوں میں کام کر رہا تھا۔ یہاں مسلسل رہنے کے لیے اس نے کابل میں گھر بنایا
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ