International

افغان طالبان نے سمارٹ فونز پر پابندی لگا دی، تحریک کے ارکان کے فونز توڑنے کے مناظر

افغان طالبان نے سمارٹ فونز پر پابندی لگا دی، تحریک کے ارکان کے فونز توڑنے کے مناظر

طالبان حکومت نے افغانستان میں سرکاری، سکورٹی اور تعلیمی اداروں کے اندر سمارٹ فونز کے استعمال پر اپنی پابندیوں کو وسعت دے دی ہے، یہ ایک ایسا نیا قدم ہے جو ملک کے اندر مواصلات، عکاسی اور معلومات کی گردش کے ذرائع سے نمٹنے میں بڑھتی ہوئے سختی کی عکاسی کرتا ہے۔ طالبان کے امیر ملا ھبۃ اللہ اخوندزادہ کے دفتر سے منسوب ایک دستاویز کے مطابق ایک زبانی حکم جاری کیا گیا ہے جس کے تحت طالبان کے ارکان اور ان کے محکموں کے ملازمین پر سمارٹ فونز کا استعمال مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ملا ھبۃ اللہ نے یہ حکم دیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو مجرم تصور کیا جائے گا جنہیں فوجی عدالتوں کے حوالے کیا جائے گا۔ یہ دستاویز یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ اس فیصلے کی اطلاع فوجی عدالتوں کے سربراہوں کو بعض علاقوں میں سکیورٹی کمانڈروں اور انٹیلی جنس سربراہوں کی موجودگی میں دی گئی تھی۔ انہیں اس پر عمل درآمد کی نگرانی کرنے اور طالبان کی قیادت کو رپورٹیں بھیجنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ یہ فیصلہ صرف زبانی انتباہ تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں نگرانی کا ایک تحریری طریقہ کار بھی شامل ہے کیونکہ اس کے ساتھ حکام اور ملازمین کا ڈیٹا جمع کرنے کا ایک جدول منسلک کیا گیا ہے جس میں نام، کمیونیکیشن نیٹ ورک، عہدہ، جائے کار، فون نمبر اور حکم پر عمل درآمد کی نوعیت شامل ہے۔ طالبان کے ارکان کی اپنے سمارٹ فونز توڑنے کی تصاویر اور ویڈیوز بھی حاصل کی ہیں۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جس نے بہت سے افغانوں کے ذہنوں میں 1996 اور 2001 کے درمیان تحریک کے پہلے دور حکومت کے طریقوں کو تازہ کر دیا ہے۔ اس دور میں حکومت ٹیلی ویژن پر پابندی لگاتی تھی اور نشریاتی آلات کو توڑ دیتی تھی۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments