Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
International

آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر نئے حملے، ایران پر ملوث ہونے کے الزامات

Admin
By Admin
Jul 07, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

ARSALAN RESTAURANT KA BADA ELAN, FOOD SAFETY KE LIYE NAYE RULES LAGU

آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر نئے حملے، ایران پر ملوث ہونے کے الزامات
آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر نئے حملے، ایران پر ملوث ہونے کے الزامات — July 07, 2026
امریکہ کے دو سرکاری اہلکاروں نے کہا ہے کہ ایران کے پاسداران انقلاب نے پیر کی رات آبنائے ہزمز سے گزرنے والے جہازوں پر کم سے کم دو میزائل فائر کیے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی ایکسیوس کی رپورٹ میں دو سرکاری اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ میزائل حملوں سے دونوں جہازوں کو بہت نقصان پہنچا مگر کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔
اسی طرح سمندری تجارت سے وابستہ برطانوی کمپنی یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ ایک اور واقعے میں ایک ٹینکر کو ’نامعلوم پروجیکٹائل‘ نے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ عمان کے شہر لیماہ سے آٹھ ناٹیکل میل کی دوری پر سفر کر رہا تھا۔
بیان کے مطابق پروجیکٹائل ٹکرانے سے جہاز میں آگ لگ گئی تاہم کسی انسانی یا ماحولیاتی نقصان کی اطلاع نہیں ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے واقعے سے متعلق موقف جاننے کے لیے بھجوائی گئی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
خبر رساں ادارے اے پی نے برطانوی فوجی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کسی گروپ نے فوری طور پر تازے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں ہے، جبکہ حالیہ دنوں میں عمان کے قریب کم سے کم دو مزید جہازوں پر حملوں کا شبہ ایران پر ظاہر کیا گیا ہے۔
یو کے ایم ٹی او کی جانب سے روٹ استعمال کرنے والے بحری جہازوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ احتیاط سے کام لیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔
یہ واقعات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب چند روز قبل ہی امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت اور جنگ بندی معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں۔
اس کا مقصد تنازع کا مسقتل خاتمہ اور توانائی کے ذرائع کی تجارت کے لیے اہم ترین سمجھی جانے والی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے۔
اگرچہ دستخط کے بعد سمندری آمد و رفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے تاہم ایران نے ایسا طریقہ کار اختیار کیا ہے کہ صورت حال جنگ سے قبل کے وقت کے مطابق بحال نہیں ہوئی اور اس نے جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ساحلی پٹی کے متعین راہداری سے باہر کے راستے استعمال کرنے سے گریز کریں۔
ایران کی مشترکہ فوجی کمان نے جمعرات کو کہا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام آئل ٹینکرز کو منظور شدہ راستوں کا ہی استعمال کرنا ہوگا۔
اس کے بعد ایک اور بیان میں کہا گیا تھا کہ ’تعمیل نہ ہونے، مقررہ راستے سے انحراف یا آبنائے ہرمز میں ایران کے پروٹوکول کو نظرانداز کیے جانے کی صورت میں فوج کی جانب سے فوری اور زبردست اقدام کیا جائے گا۔‘
ایران نے عبوری معاہدے کے تحت 60 دنوں کے لیے بحری جہازوں کو بغیر کسی ادائیگی کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت پر اتفاق کیا ہے تاہم تہران کا اصرار ہے کہ روٹس کا تعین وہ کرے گا جبکہ بعدازاں جہازوں سے فیس بھی وصول کی جائے گی۔
دوسری جانب امریکہ اور کئی خلیجی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے فیس کی وصولی ناقابل قبول ہے۔
اسی طرح عمان اور اقوام متحدہ کی ایجنسی کی جانب سے عمان کے ساحل کے قریب ایک نیا راستہ کھولنے کی کوشش پر مشرق وسطیٰ میں حملوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس سے کشیدگی میں نمایاں طور پر اضافہ ہوا۔

امریکہ کے دو سرکاری اہلکاروں نے کہا ہے کہ ایران کے پاسداران انقلاب نے پیر کی رات آبنائے ہزمز سے گزرنے والے جہازوں پر کم سے کم دو میزائل فائر کیے۔...

Source: Social Media
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn