امریکہ کے دو سرکاری اہلکاروں نے کہا ہے کہ ایران کے پاسداران انقلاب نے پیر کی رات آبنائے ہزمز سے گزرنے والے جہازوں پر کم سے کم دو میزائل فائر کیے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی ایکسیوس کی رپورٹ میں دو سرکاری اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ میزائل حملوں سے دونوں جہازوں کو بہت نقصان پہنچا مگر کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ اسی طرح سمندری تجارت سے وابستہ برطانوی کمپنی یو کے ایم ٹی او کا کہنا ہے کہ ایک اور واقعے میں ایک ٹینکر کو ’نامعلوم پروجیکٹائل‘ نے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ عمان کے شہر لیماہ سے آٹھ ناٹیکل میل کی دوری پر سفر کر رہا تھا۔ بیان کے مطابق پروجیکٹائل ٹکرانے سے جہاز میں آگ لگ گئی تاہم کسی انسانی یا ماحولیاتی نقصان کی اطلاع نہیں ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے واقعے سے متعلق موقف جاننے کے لیے بھجوائی گئی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ خبر رساں ادارے اے پی نے برطانوی فوجی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کسی گروپ نے فوری طور پر تازے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں ہے، جبکہ حالیہ دنوں میں عمان کے قریب کم سے کم دو مزید جہازوں پر حملوں کا شبہ ایران پر ظاہر کیا گیا ہے۔ یو کے ایم ٹی او کی جانب سے روٹ استعمال کرنے والے بحری جہازوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ احتیاط سے کام لیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔ یہ واقعات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب چند روز قبل ہی امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت اور جنگ بندی معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں۔ اس کا مقصد تنازع کا مسقتل خاتمہ اور توانائی کے ذرائع کی تجارت کے لیے اہم ترین سمجھی جانے والی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے۔ اگرچہ دستخط کے بعد سمندری آمد و رفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے تاہم ایران نے ایسا طریقہ کار اختیار کیا ہے کہ صورت حال جنگ سے قبل کے وقت کے مطابق بحال نہیں ہوئی اور اس نے جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ساحلی پٹی کے متعین راہداری سے باہر کے راستے استعمال کرنے سے گریز کریں۔ ایران کی مشترکہ فوجی کمان نے جمعرات کو کہا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام آئل ٹینکرز کو منظور شدہ راستوں کا ہی استعمال کرنا ہوگا۔ اس کے بعد ایک اور بیان میں کہا گیا تھا کہ ’تعمیل نہ ہونے، مقررہ راستے سے انحراف یا آبنائے ہرمز میں ایران کے پروٹوکول کو نظرانداز کیے جانے کی صورت میں فوج کی جانب سے فوری اور زبردست اقدام کیا جائے گا۔‘ ایران نے عبوری معاہدے کے تحت 60 دنوں کے لیے بحری جہازوں کو بغیر کسی ادائیگی کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت پر اتفاق کیا ہے تاہم تہران کا اصرار ہے کہ روٹس کا تعین وہ کرے گا جبکہ بعدازاں جہازوں سے فیس بھی وصول کی جائے گی۔ دوسری جانب امریکہ اور کئی خلیجی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے فیس کی وصولی ناقابل قبول ہے۔ اسی طرح عمان اور اقوام متحدہ کی ایجنسی کی جانب سے عمان کے ساحل کے قریب ایک نیا راستہ کھولنے کی کوشش پر مشرق وسطیٰ میں حملوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس سے کشیدگی میں نمایاں طور پر اضافہ ہوا۔
Source: Social Media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع