برطانوی میری ٹائم اتھارٹی نے اطلاع دی ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری سکیورٹی کو درپیش خطرات کی سطح بدستور سنگین درجے پر ہے ۔اتھارٹی نے جہازوں کو عبور کرتے وقت احتیاط برتنے اور منظور شدہ حفاظتی اقدامات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔ برٹش میری ٹایم اتھارٹی نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں وضاحت کی کہ ایران کی جانب سے 12 جولائی کو آبنائے بند کرنے کے اعلان کے باوجود آبنائے ہرمز میں جہازوں کے گذرنے کے لیے جنوبی راستہ بدستور دستیاب ہے۔ اتھارٹی نے نشاندہی کی کہ دونوں اطراف میں ٹریفک کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے راستے کو وسیع کر دیا گیا ہے۔ میری ٹائم اتھارٹی نے کہا کہ جہازوں کو بحری افواج کی جانب سے وائرلیس کمیونیکیشن ڈیوائسز کے ذریعے کالز موصول ہو سکتی ہیں ۔ اس نے ملاحوں پر زور دیا کہ وہ روایتی ٹریفک علیحدگی کے نظام کے اندر واقع مائنز کے خطرے والے علاقے پر توجہ دیں۔ برطانوی اتھارٹی نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکی بحری فوج کی سینٹرل کمانڈ کے میری ٹائم گائیڈنس اینڈ کوآرڈینیشن گروپ کے ساتھ رابطہ کاری کی سختی سے سفارش کی جاتی ہے لیکن یہ لازمی نہیں ہے۔ اتھارٹی نے وضاحت کی کہ جہاز پہلے سے رابطہ کاری کی ضرورت کے بغیر جنوبی راستے کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اتھارٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کوئی بھی فریق فیس وصول کرنے یا آبنائے ہرمز میں کسی بھی گزرگاہ سے گزرنے کو کنٹرول کرنے کے لیے ریگولیٹری اتھارٹی کا مالک نہیں ہے۔ اتھارٹی نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور یہ کسی بھی ایک ملک کے جبر یا کنٹرول کے تابع نہیں ہے۔ ایران کے آبنائے کو بند کرنے کے دعووں کے باوجود امریکی افواج بین الاقوامی قانون کے مطابق جہاز رانی کی آزادی کو برقرار رکھنے اور جائز تجارت کے تحفظ کے لیے تیار ہیں۔ آبنائے کا جنوبی راستہ بدستور کھلا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب تہران نے اتوار کے روز آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا جس کے بعد اس نے ہمسایہ خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ یہ اقدام امریکہ کی جانب سے ایرانی ساحلی علاقوں پر حملوں کے نئے دور کے اگلے دن سامنے آیا ہے جسے امریکہ نے ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی جہاز پر حملے کا جواب قرار دیا ہے۔ یہ نئی کشیدگی جون کے وسط میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والیمفاہمت کی یادداشت کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتی ہے جس کا مقصد اس جنگ کو ختم کرنا تھا جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں شروع ہوئی تھی۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع