International

آبنائے ہُرمز میں کشیدگی: ایک بحری جہاز پر قبضہ، دوسرا حملے کے بعد ڈُوب گیا

آبنائے ہُرمز میں کشیدگی: ایک بحری جہاز پر قبضہ، دوسرا حملے کے بعد ڈُوب گیا

آبنائے ہُرمز کے قریب کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ’پہلے متحدہ عرب امارات کے قریب لنگر انداز ہونے والے ایک بحری جہاز کو قبضے میں لے کر ایران کی طرف لے جایا گیا اور پھر عمان کے قریب ایک مال بردار بحری جہاز حملے کے بعد ڈُوب گیا۔‘ عرب نیوز کے مطابق فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان واقعات کے پیچھے کون ہے، لیکن یہ واقعات ایسے وقت میں ہوئے جب ایرانی عہدے داروں کی جانب سے مختلف بیانات سامنے آئے۔ ایران کے ایک سینیئر عہدے دار نے آبنائے ہُرمز پر ایران کے کنٹرول کے دعوے کا اعادہ کیا، اور دوسرے نے کہا کہ ’اُن کے ملک کو امریکہ سے منسلک آئل ٹینکرز کو ضبط کرنے کا حق ہے۔‘ آبنائے ہُرمز میں افراتفری اور غیر یقینی کی صورتِ حال جنگ سے قبل آبنائے ہُرمز سے دنیا کے تیل کا پانچواں حصہ گزرتا تھا، امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعے کے خاتمے کے لیے ہونے والی بات چیت میں ہفتوں یہ نکتہ اہم رہا ہے۔ اس اہم آبی گزرگاہ پر ایران کی گرفت سے عالمی معیشت کو شدید دھچکہ لگا ہے اور تیل اور گیس کی قیمتیں مشرق وسطیٰ سے باہر بھی کئی گنا تک بڑھ چکی ہیں۔ خطے میں عدم استحکام کی موجودہ صورتِ حال اُس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔ وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ ’امریکہ اور چین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ آبنائے ہُرمز کو کھلا رہنا چاہیے۔‘ اسے سے قبل گذشتہ ہفتے آبنائے ہُرمز میں کشیدگی اُس وقت بڑھ گئی تھی جب امریکی افواج نے ایرانی آئل ٹینکروں پر فائرنگ کی اور اُنہیں ناکارہ بنا دیا۔ امریکی حکام کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ‘یہ آئل ٹینکرز امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments