جرمن وزیر خارجہ جوہان وڈیفول کا کہنا ہے کہ انھیں آبنائے ہرمز کی بندش سے نمٹنے میں نیٹو کا کوئی کردار نہیں دکھائی دیتا۔ ’مجھے نہیں دکھائی دیتا کہ نیٹو نے اس متعلق کوئی فیصلہ کیا ہے یا آبنائے ہرمز کے حوالے سے کوئی ذمہ داری لے سکتا ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو نیٹو کے ادارے اس کے مطابق اس سے نمٹ رہے ہوتے۔ وہ برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل اظہار خیال کر رہے تھے۔ وڈیفل کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی غیر مستحکم صورت حال کے باوجود یورپ کی اولین سکیورٹی ترجیح یوکرین ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس سے کو فائدہ پہنچتا ہے۔ جرمن وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ روس پر پابندیوں میں نرمی غلط راستہ ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی
سوئٹزرلینڈ کا ایران جنگ کے تناظر میں امریکی فوجی پروازوں پر پابندی کا اعلان، بلوم برگ