International

آبنائے ہرمز : امریکی صدر کی ایک بار پھر اتحادیوں سے مدد کی اپیل

آبنائے ہرمز : امریکی صدر کی ایک بار پھر اتحادیوں سے مدد کی اپیل

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے اتحادی ممالک سے ایک بار پھر مدد کی اپیل کردی، ان کا کہنا ہے کہ ہم نے ایرانی قیادت کا خاتمہ کردیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو بحری آمد و رفت کے لیے کھلوانے کے لیے اتحادی ممالک سے ایک بار پھر مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن ممالک کے تیل بردار جہاز اس راستے سے گزرتے ہیں انہیں آگے آکر اس جنگ میں تعاون کرنا چاہیے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے امریکا کی صرف ایک فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے وہ ممالک جنگ میں زیادہ ذمہ داری لیں جن کا زیادہ تر تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو ڈبو دیا گیا ہے اور اگر ایران نے دوبارہ سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کی تو یہ اس کے لیے خودکشی کے مترادف ہوگا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ طاقتور امریکی فوج نے ایرانی رجیم کو سخت نقصان پہنچایا ہے اور جنگ کا تیسرا ہفتہ جاری ہے۔ ان کے مطابق ایران کے دفاعی نظام کو تیزی سے تباہ کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں ایران کے حملوں میں تقریباً 90 فیصد کمی آچکی ہے۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایرانی ڈرون اور میزائل بنانے کی صلاحیت کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ 100 سے زائد ایرانی جہاز تباہ کیے جاچکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت تقریباً ختم کر دی گئی ہے اور کارروائیوں میں زیادہ تر فوجی اور تجارتی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق خلیج فارس میں واقع خارگ جزیرے پر آئل پائپ لائنز کے علاوہ بیشتر تنصیبات تباہ کر دی گئی ہیں اور ایران کو دوبارہ اپنی عسکری و صنعتی صلاحیت بحال کرنے میں کم از کم دس سال لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں گی۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایران مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے امریکی فوج پر حملوں کی جعلی ویڈیوز تیار کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے لیکن امریکا اس کے لیے تیار نہیں۔ اس موقع پر انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسامہ بن لادن کے حوالے سے انہوں نے نائن الیون حملوں سے پہلے خبردار کیا تھا، اگر اس وقت ان کی بات سن لی جاتی تو یہ واقعہ پیش نہ آتا۔ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ امریکا ایران کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل تباہی سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے بقول اگر امریکا چاہتا تو تہران کے بجلی گھروں کو ایک گھنٹے میں تباہ کیا جا سکتا تھا، تاہم ایسا نہ کرنے کا مقصد ایرانی عوام کو مزید مشکلات سے بچانا ہے کیونکہ ان تنصیبات کی دوبارہ تعمیر میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments