امریکی اور برطانوی حکام نے بتایا کہ عراق میں ایک تربیتی مشق کے دوران ایک امریکی فوجی اور ایک برطانوی فوجی ہلاک ہو گئے۔ تاہم، اس واقعے کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی فوج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ یہ ہلاکتیں اتوار کے روز شمالی عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے میں واقع اربیل کے ایک فضائی اڈے پر ہوئیں، جہاں امریکہ نے اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ فوجی کی شناخت اس وقت تک ظاہر نہیں کی جائے گی جب تک اس کے اہلِ خانہ کو اطلاع دیے جانے کے 24 گھنٹے مکمل نہ ہو جائیں۔ برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے ایک علیحدہ بیان میں کہا کہ برطانوی فوجی کے اہلِ خانہ کو اطلاع دے دی گئی ہے اور انہوں نے مزید تفصیلات جاری کرنے سے پہلے ’سوگ اور رازداری کے لیے کچھ وقت‘ دینے کی درخواست کی ہے۔ امریکہ عراق میں داعش کے خلاف کارروائیوں کے لیے تعینات فوجیوں کی تعداد میں کمی کر رہا ہے، تاہم امریکی افواج نے کرد علاقے میں اپنی موجودگی برقرار رکھی ہوئی ہے کیونکہ امریکہ کردوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ امریکہ نے دسمبر میں کرد علاقے کے دارالحکومت اربیل میں ایک بڑے نئے قونصل خانے کے کمپلیکس کا افتتاح کیا تھا، جو اس علاقے میں واشنگٹن کی سفارتی اور تزویراتی وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ہلاکتیں اس واقعے کے تقریباً ایک ماہ بعد پیش آئیں جب دو امریکی فوجی مراکش میں ڈیوٹی سے فارغ وقت میں تفریحی پیدل سفر کے دوران ایک چٹان سے گر کر ہلاک ہو گئے تھے۔ وہ 2 مئی کو لاپتا رپورٹ ہوئے تھے، جب وہ ’افریقن لائن‘ نامی سالانہ کثیرالملکی فوجی مشق میں شرکت کر رہے تھے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو جاری کر کے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کر دی
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی اپیل پر دنیا خاموش
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
ایرانی بحریہ ختم ہو چکی تو ٹرمپ خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیج دیں، ترجمان پاسداران
برطانیہ نے قطر، قبرص میں ٹائفون، ایف 35 طیارے تعینات کردیے
روضہ رسولﷺپر رش کی صورت حال ’’ الیکٹرانک ‘‘ طریقے سے دیکھنے کی سہولت شروع
امریکی حملے کے بعد ایران کے جزیرے خارگ سے بدستور ٹینکرز پر تیل لوڈ کیا جا رہا ہے، رپورٹ