International

عوامی سروے : بینیٹ اور آئزن کوٹ وزارتِ عظمیٰ کے لیے نیتن یاہو پر سبقت لے گئے

عوامی سروے : بینیٹ اور آئزن کوٹ وزارتِ عظمیٰ کے لیے نیتن یاہو پر سبقت لے گئے

اسرائیل میں آج جمعے کے روز سامنے آنے والے رائے عامہ کے ایک سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ اور سابق آرمی چیف گاڈی آئزن کوٹ مستقبل کے کسی بھی انتخابات میں وزارتِ عظمیٰ کے منصب کے لیے موجودہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے زیادہ حمایت رکھتے ہیں۔ یہ سروے "لازار" نامی نجی ادارے نے 501 اسرائیلیوں پر مشتمل ایک بے ترتیب نمونے کے ذریعے کیا، جسے عبرانی اخبار "معاریف" نے شائع کیا ہے۔ اس سروے میں غلطی کا امکان 4.4 فی صد ہے۔ اخبار کے مطابق 46 فی صد اسرائیلی سمجھتے ہیں کہ نئی بننے والی جماعت پارٹی کے سربراہ نفتالی بینیٹ حکومت کی قیادت کے لیے موزوں ترین ہیں، جبکہ 41 فی صد نے نیتن یاہو کے حق میں رائے دی اور 13 فی صد نے لا علمی کا اظہار کیا۔ اسی طرح 44 فی صد کے نزدیک آئزن کوٹ اس عہدے کے لیے زیادہ موزوں ہیں جبکہ نیتن یاہو کے لیے یہ شرح 42 فی صد رہی۔ تاہم جب آئزن کوٹ اور بینیٹ کے درمیان انتخاب کی بات آئی تو 33 فی صد نے آئزن کوٹ اور 32 فی صد نے بینیٹ کو ترجیح دی۔ یہ سروے نفتالی بینیٹ اور اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ کی جماعتوں کے باہمی انضمام اور نئی جماعت " " پارٹی کی تشکیل کے اعلان کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ یہ انضمام آئندہ اکتوبر میں ہونے والے عام انتخابات کے پیشِ نظر کیا گیا ہے، جبکہ آئزن کوٹ کی جماعت "يشار" کے لیے بھی اس میں شامل ہونے کے دروازے کھلے رکھے گئے ہیں۔ سروے کے مطابق " " اب اسرائیل کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے جو 28 نشستیں حاصل کر سکتی ہے، جبکہ بنجمن نیتن یاہو کی " " 26 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ کئی مہینوں بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی جماعت لیکوڈ سے آگے نکلی ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل میں وزیر اعظم کا انتخاب براہِ راست عوام نہیں کرتے بلکہ وہ شخص اس عہدے پر فائز ہوتا ہے جو 120 رکنی پارلیمنٹ (کنيسٹ) میں کم از کم 61 ارکان کی حمایت حاصل کر کے حکومت بنانے میں کامیاب ہو۔ نتائج سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ برتری کے باوجود اپوزیشن جماعتیں حکومت سازی کے لیے مطلوبہ 61 نشستوں کی اکثریت حاصل نہیں کر پا رہی ہیں۔ اپوزیشن کو 60 نشستیں ملتی دکھائی دے رہی ہیں جبکہ نیتن یاہو کے کیمپ کو 50 اور عرب ارکان کو 10 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ بینیٹ اور لیپڈ کئی بار یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ حکومت سازی کے لیے عرب ارکان سے اتحاد نہیں کریں گے، حالانکہ 2021 میں انہوں نے منصور عباس کی "عرب یونائیٹڈ لسٹ" کے تعاون سے حکومت بنائی تھی جو اگلے ہی سال گر گئی تھی۔ بدھ کے روز 80 سے زائد عرب اور یہودی امن تنظیموں نے عرب ارکان کے ساتھ اتحاد سے انکار پر بینیٹ اور لیپڈ کے موقف پر کڑی تنقید کی ہے۔ تنظیموں نے اپنے بیان میں کہا کہ عرب معاشرہ کسی بھی مستقبل کے حل کا نا گزیر حصہ ہے اور انہیں الگ تھلگ رکھ کر فلسطینیوں کے ساتھ کوئی سیاسی تصفیہ ممکن نہیں ہے۔ حالیہ سروے واضح کرتا ہے کہ اگر آج انتخابات ہوں تو اپوزیشن کو حکومت بنانے کے لیے عرب ارکان کے تعاون کی ضرورت پڑے گی۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments