International

علی خامنہ ای کے خلاف پوسٹ، ایران میں قومی ٹیم کے گول کیپر کو جیل بھیج دیا گیا

علی خامنہ ای کے خلاف پوسٹ، ایران میں قومی ٹیم کے گول کیپر کو جیل بھیج دیا گیا

، ایرانی حکام نے فٹ بال کی قومی ٹیم کے سابق گول کیپر محمد رشید مظاہری کو اس سال کے شروع میں ایک پوسٹ کرنے کی وجہ سے حراست میں لیا ہے، جس میں اس وقت کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای پر شدید تنقید کی گئی تھی۔ ایرانی عدلیہ سے وابستہ نیوز ایجنسی "میزان" نے تصدیق کی ہے کہ محمد رشید مظاہری زیر حراست ہیں لیکن اس کا کہنا ہے کہ انہیں غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کی کوشش کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ رشید مظاہری نے اپنے ملک کی قومی ٹیم کے لیے محدود تعداد میں بین الاقوامی میچ کھیلے اور وہ روس میں 2018 کے ورلڈ کپ کے سکواڈ کا حصہ تھے لیکن انہوں نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا بیشتر حصہ بلا موازنہ پہلے گول کیپر علی رضا بیرانوند کے زیر سایہ گزارا۔ رشید مظاہری، جنہوں نے بڑے مقامی کلبوں کے گول کیپ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں، نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ شیئر کی تھی جو اب حذف ہو چکی ہے۔ اس پوسٹ میں انہوں نے رہبر اعلیٰ کو ایران کی تاریخ کا "صرف ایک تاریک اور عارضی باب" قرار دیا تھا۔ ان کی یہ پوسٹ جنوری میں ہونے والے مقامی مظاہروں کے بعد اور ایران کے خلاف امریکہ ۔ اسرائیل جنگ شروع ہونے سے پہلے سامنے آئی تھی۔ واضح رہے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای 28 فروری کو جنگ کے پہلے دن امریکی۔ اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔ ایران سے باہر قائم فارسی زبان کی نیوز ویب سائٹ "ایران وائر" نے کہا ہے کہ حکام نے 25 فروری کو رشید مظاہری کے گھر پر چھاپہ مارا تھا۔ ان کی اہلیہ مریم عبداللہی نے منگل کو انسٹاگرام پر لکھا کہ ان کے شوہر کو اب شمال مغربی ایران کے شہر ارومیہ میں انتہائی سخت تنہائی کی جیل میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رشید نے ہمیشہ جس کا انہوں نے درست سمجھا اس چیز کا دفاع کیا ۔ اب وہ اس بہادری کی قیمت تنہائی کی قید میں جیل کاٹ کر چکا رہے ہیں۔ تاہم، "میزان" نے بدھ کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا کہ وہ جگہ کا تعین کیے بغیر جیل کے ایک عام وارڈ میں نظر بند ہیں۔ نیوز ایجنسی ’’ میزان ‘‘نے مزید کہا کہ انہیں ایران کی مغربی سرحد کے ذریعے اپنا حلیہ بدل کر اور سرحدی محافظوں کے اہلکاروں کو رشوت دے کر غیر قانونی طور پر ملک چھوڑنے کی کوشش کے بعد گرفتار کیا گیا۔ واضح رہے ایران میں فٹ بال کے شعبے کو ایسے وقت میں انتہائی سخت جانچ پڑتال کا سامنا ہے جب ایران کی مردوں کی قومی ٹیم ورلڈ کپ کے فائنلز میں حصہ لینے کی تیاری کر رہی جہاں وہ امریکی سرزمین پر گروپ مرحلے کے میچ کھیلے گی۔ ایرانی حکام نے اس ماہ کے شروع میں قومی ٹیم کے سابق کپتان علی کریمی سے وابستہ اثاثے ضبط کرنے کا اعلان کیا تھا جو اب جلاوطنی میں رہ رہے ہیں اور حکومت کے سخت ترین ناقدین میں شمار ہوتے ہیں۔ قومی ٹیم کے سابق کھلاڑی وریہ غفوری کو بھی قطر میں حالیہ ورلڈ کپ کے دوران 2022 میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ وریہ غفوری، جن کا تعلق ایران کی کرد اقلیت سے ہے، کو مظاہرین پر ہونے والے جبر و تشدد کی مذمت کرنے کے نتیجے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments