گاڑی کی فٹنس ’فیل‘ ہوتے ہی کیمرہ پکڑ لے گا! ما فلائی اوور پر اب ڈیجیٹل نگرانی
صرف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہی نہیں، اب گاڑی کے ضروری دستاویزات میں بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے کولکاتا ٹریفک پولیس ڈیجیٹل نگرانی کا نظام شروع کرنے جا رہی ہے۔ ما فلائی اوور پر اس نظام کا پائلٹ پروجیکٹ شروع ہونے والا ہے۔ اس سلسلے میں کولکاتا پولیس اور نیشنل انفارمیٹکس سینٹر (این آئی سی) کے درمیان معاہدہ بھی ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں گاڑی کے نمبر پلیٹ کو اسکین کرکے متعلقہ گاڑی کے دستاویزات کی حقیقی وقت کی معلومات حاصل کرنے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق ما فلائی اوور سے گزرنے والی گاڑیوں کے نمبر پلیٹ کو اے این پی آر (آٹومیٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن) کیمروں کے ذریعے اسکین کیا جائے گا۔ اس نمبر کو متعلقہ گاڑی کے سرکاری ریکارڈ سے ملایا جائے گا۔ اس نظام کے ذریعے یہ معلوم کیا جا سکے گا کہ گاڑی کا پولیوشن کنٹرول سرٹیفکیٹ (پی یو سی) اور فٹنس سرٹیفکیٹ قابلِ اعتبار اور نافذالعمل ہیں یا نہیں۔
اگر کسی گاڑی کے پی یو سی یا فٹنس سرٹیفکیٹ کی مدت ختم ہو چکی ہوگی تو اس نظام کے ذریعے اس کی نشاندہی ہو جائے گی۔ اس کے بعد متعلقہ گاڑی کے مالک کو آن لائن جرمانہ یا ای-چالان بھیجنے کا انتظام کیا جائے گا۔ اس طرح دستاویزات کی جانچ کے لیے سڑک پر گاڑی روکنے کی ضرورت کافی حد تک کم ہو جائے گی۔
ٹریفک پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ ابتدائی طور پر یہ نظام ما فلائی اوور پر تجرباتی طور پر شروع کیا جا رہا ہے۔ پائلٹ پروجیکٹ کے دوران اے این پی آر کیمروں، حقیقی وقت میں معلومات جمع کرنے اور آن لائن جرمانے کے پورے عمل کا جائزہ لیا جائے گا۔ اگر یہ نظام کامیاب رہا تو پولیس کی جانب سے کولکاتا کی دیگر اہم سڑکوں اور فلائی اوورز پر بھی اسے نافذ کرنے کا منصوبہ ہے۔
دوسری جانب، ما فلائی اوور پر گاڑی خراب ہونے کے باعث بار بار پیدا ہونے والے ٹریفک جام کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے بھی ٹریفک پولیس نے انتظامات میں تبدیلی کی ہے۔ پہلے فلائی اوور پر تین کٹ آو¿ٹ پوائنٹس تھے، جن کی تعداد بڑھا کر اب چھ کر دی گئی ہے۔
اگر کوئی گاڑی اچانک خراب ہو جائے تو ان کٹ آو¿ٹ پوائنٹس کے ذریعے اسے مرکزی ٹریفک لین سے ہٹایا جا سکے گا۔ پولیس کے مطابق اس سے خراب گاڑی کی وجہ سے ٹریفک جام ہونے کے امکانات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
گاڑی کی فٹنس ’فیل‘ ہوتے ہی کیمرہ پکڑ لے گا! ما فلائی اوور پر اب ڈیجیٹل نگرانی...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments