سوناگاجھی میں پوجا کے موقع پر نصف رہ گئے گاہک، جنسی کارکنان فکرمند!
کسی بھی وقت سڑک پر حملہ ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ ساتھ موجود موبائل فون، نقد رقم یا بیگ بھی چھینے جا سکتے ہیں! یہ واقعات ایک دو دن سے نہیں بلکہ اکثر پیش آ رہے ہیں۔ شکایت کرنے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہو رہی، ایسا الزام ہے۔ کولکاتا کے سوناگاجھی جنسی علاقے میں مبینہ طور پر اسی طرح کے واقعات پیش آ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں گاہکوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ بہت سے جنسی کارکنان بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔
کورونا وبا کے بعد سے ہی سوناگاجھی کے جنسی علاقے میں گاہکوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ اس کے علاوہ لوٹ مار کے واقعات کی وجہ سے شمالی کولکاتا کے اس علاقے سے گاہک دوری اختیار کر رہے ہیں۔ پوجا کے موقع پر بھی اس جنسی علاقے میں گاہکوں کی بھیڑ نظر نہیں آ رہی۔
شوبھابازار کا سوناگاجھی ایشیا کے بڑے جنسی علاقوں میں سے ایک ہے۔ یہاں 7 ہزار سے زائد جنسی کارکنان رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 2500 سے 3000 جنسی کارکنان روزانہ یہاں آتے جاتے ہیں۔ عام طور پر یہاں گاہکوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ 2020 کے لاک ڈاو¿ن کے بعد یہاں گاہکوں کی تعداد کچھ کم ہوئی تھی۔ لیکن مبینہ طور پر چھینا جھپٹی کرنے والے گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث اب گاہک اس علاقے میں داخل ہونے سے خوف محسوس کر رہے ہیں۔
جنسی کارکنان کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے اس علاقے میں گاہکوں کی تعداد کافی کم ہو گئی ہے۔ الزام ہے کہ گاہکوں کو ہراساں کرنے اور لوٹ مار کے واقعات میں اضافے کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
ان کا الزام ہے کہ سوناگاجھی میں کچھ جنسی کارکنان گاہکوں کو بلا کر ان سے رقم، سونا اور زیورات چھین لیتے ہیں۔ یہاں داخل ہونے کے بعد کچھ افراد جنسی کارکنان کے ساتھ مل کر گاہکوں کو ہراساں بھی کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے گاہک یہاں آنے سے گریز کر رہے ہیں۔
گاہکوں کو ہراساں کرنے اور لوٹ مار کے بڑھتے ہوئے واقعات سے دربار مہیلا سمنوئے کمیٹی بھی واقف ہے۔ کمیٹی کی سکریٹری وشاکھا لاسکر نے کہا، ”ایک گروہ یہ کام کر رہا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، کئی برسوں سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں اس میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ اسی وجہ سے یہاں گاہکوں کی آمد کم ہوئی ہے۔ تقریباً 50 فیصد گاہک کم ہو گئے ہیں۔“
ان کے مطابق تمام جنسی کارکنان چوری یا چھینا جھپٹی میں ملوث نہیں ہیں۔ کچھ افراد اس گروہ کے ساتھ وابستہ ہیں، لیکن ان کی وجہ سے دیگر جنسی کارکنان کی روزی روٹی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ دربار کی جانب سے اس گروہ کے بارے میں کئی مرتبہ مقامی پولیس اور انتظامیہ کو اطلاع دی گئی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق سوناگاجھی میں چھینا جھپٹی کی اطلاعات پولیس سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ تاہم جن لوگوں کے ساتھ یہ واقعات پیش آتے ہیں، وہ خود تھانے میں شکایت درج نہیں کرانا چاہتے۔ اس وجہ سے پولیس بھی ملزمان کے خلاف کارروائی نہیں کر پا رہی ہے۔
اب پوجا کا موسم سامنے ہے۔ پوجا کے دوران جنسی کارکنان کی آمدنی میں کافی اضافہ ہوتا ہے۔ ایک جنسی کارکن نے بتایا کہ اگر لوٹ مار اور ہراسانی کے واقعات میں کمی نہیں آئی تو پوجا کے دوران گاہک پہلے کی طرح سوناگاجھی کا رخ نہیں کریں گے۔ اس لیے گاہکوں کے تحفظ اور سلامتی کو پہلے کی طرح یقینی بنانا ضروری ہے۔
سوناگاجھی میں پوجا کے موقع پر نصف رہ گئے گاہک، جنسی کارکنان فکرمند!...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments