کشیدگی کے بعد ایس آر ایف ٹی آئی میں سنّاٹا، 4 الگ الگ ایف آئی آر درج
مسلسل 7 سے 8 گھنٹے تک مرحلہ وار شدید کشیدگی کے بعد پیر کے روز بھی ایس آر ایف ٹی آئی کا ماحول کشیدہ رہا۔ ادارے کے باہر اب بھی پولیس تعینات ہے۔ دریں اثنا، پنچسایر تھانے میں اس واقعے کے سلسلے میں چار الگ الگ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ پہلی ایف آئی آر اکھل بھارتیہ گراہک پنچایت سمیتی نے درج کرائی ہے۔ دوسری ایف آئی آر طلبہ کے ایک گروپ کی جانب سے درج کرائی گئی ہے۔ تیسری ایف آئی آر پولیس نے ازخود درج کی ہے۔
اس واقعے کے سلسلے میں اب تک کسی کو حراست میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی کوئی گرفتاری ہوئی ہے۔
اتوار کو دوپہر تقریباً ایک بجے آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم اکھل بھارتیہ گراہک پنچایت سمیتی کا ایک پروگرام تھا۔ الزام ہے کہ اسی دوران ایس ایف آئی کے ارکان پروگرام کے مقام پر پہنچے۔ منتظمین سے سوال کیا گیا کہ ایک تعلیمی ادارے کے آڈیٹوریم میں یہ پروگرام کیوں منعقد کیا جا رہا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایس ایف آئی کی جانب سے کسی کی بات سنے بغیر بھارت ماتا، سوامی وویکانند کی تصاویر اور بینر پھاڑ دیے گئے۔
تاہم طلبہ کا دعویٰ ہے کہ پہلے تو انہیں اندھیرے میں رکھ کر آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم کو پروگرام کرنے کی اجازت دی گئی، اور پھر منتظمین نے انہیں ’دہشت گرد‘ اور ’بنگلہ دیشی‘ کہہ کر طنز کیا۔ طلبہ کا الزام ہے کہ اس کی مخالفت کرنے پر ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔ ایس ایف آئی کا دعویٰ ہے کہ طالبات بھی اس غصے کا نشانہ بنیں۔کالج کے احاطے میں ’جے شری رام‘ اور ’جے بھیم‘ کے نعروں کے جواب میں ’آزادی‘ کے نعرے بھی بلند ہونے لگے۔اطلاع ملنے کے بعد ڈی سی کی قیادت میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکار موقع پر پہنچے۔ پولیس کی موجودگی میں بھی بار بار کشیدگی پیدا ہوتی رہی۔ طلبہ اور پروگرام کے منتظمین کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ الزام ہے کہ ایک شخص کو تقریباً نیم برہنہ کرکے مارا پیٹا گیا، تاہم پولیس نے اسے وہاں سے نکال لیا۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ کشیدہ صورتحال کے دوران کئی طلبہ بھی زخمی ہوئے۔ انہیں اسپتال پہنچانے کے لیے ایک ایمبولینس ایس آر ایف ٹی آئی کے احاطے میں لائی گئی، تاہم کافی دیر تک جاری ہنگامے کے بعد ایمبولینس کالج کے اندر داخل ہو سکی۔ کئی زخمیوں کو وہاں سے نکال کر اسپتال لے جایا گیا۔اس کے بعد پروگرام کے منتظمین نے پولیس پر عدم تعاون کا الزام عائد کیا۔ تاہم ڈی سی ایسٹ نے کہا، ”ہم قانون سے باہر کچھ نہیں کر سکتے۔ ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔“اس کے بعد صورتحال معمول پر آ گئی۔
کشیدگی کے بعد ایس آر ایف ٹی آئی میں سنّاٹا، 4 الگ الگ ایف آئی آر درج...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments